قتل مرتد اور اسلام — Page 82
82 اور اگر یہ لوگ شرک کرتے تو ان کا سارا کیا کرایا ان سے ضائع ہو جاتا۔(۳) مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ أُولَيْكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمُ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَيُحِلُّ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) (هود: 17،16) جن کا مطلب دنیا کی زندگی اور دنیاوی رونق ہوتی ہے ہم ان کا بدلہ یہیں دنیا میں ان کو پورا پورا دے دیتے ہیں اور وہ دنیا میں کسی طرح گھاٹے میں نہیں رہتے۔لیکن یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں دوزخ کے سوا اور کچھ نہیں اور ان کے دنیا کے عمل سب اکارت گئے اور ان کا ر کیا کرا یا سب لغو۔(۴) وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا اهَؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوْا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَسِرِينَ) (المائدة: 54) اور جب (مسلمانوں پر منافقوں کا نفاق کھل جائے گا تو ) مسلمان (ان کے حال پر افسوس کر کے آپس میں ) کہیں گے کہ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑے زور سے اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے اور ہم سے کہا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ان کا سارا کیا کرایا اکارت ہوا اور وہ نقصان میں آگئے۔(۵) وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِابْتِنَا وَ لِقَاءِ الْآخِرَةِ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (الاعراف: 148) اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو اور لقاء آخرت کو نہ مانا ان کا کیا کرایا سب اکارت، یہ سزا ان کو انہی کے اعمال کی دی جائے گی۔(4) مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسْجِدَ اللَّهِ شُهِدِيْنَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بالكفر أوليكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفي النَّارِ هُمْ خَلِدُونَ (التوبة 17) مشرکوں کو کوئی حق نہیں کہ اللہ تعالی کی مسجدیں آباد رکھیں اور اپنے اوپر کفر کی گواہی بھی