قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 63 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 63

63 وہ کہتے ہیں اس آیت کریمہ میں ایسے شخص کے لئے جو کسی مومن کو عمد قتل کر دے صرف اُخروی سزا کا ذکر ہے۔پس کیا اس سے یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ایسے شخص کو اس کے جرم کی سزا اس دنیا میں نہیں دی جائے گی اور کیا ایسا آدمی قتل نہیں کیا جائے گا؟ میں یہ کہتا ہوں یہ قیاس مع الفارق ہے۔ان کی پیش کردہ آیت کے نزول سے پہلے صراحۂ قرآن شریف میں ایسے شخص کے قتل کئے جانے کا حکم نازل ہو چکا تھا اور اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد بھی قصاص کا حکم نازل ہو الیکن قتل مرتد کے متعلق قرآن شریف میں ایک بھی آیت نہیں چنانچہ قتل مرتد کے حامیوں کو یہ کہنا پڑا ہے کہ قرآن شریف اس سوال کے متعلق ساکت ہے۔وَمَنْ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ کی آیت سورۃ نساء میں نازل ہوئی اس سے پہلے سورۃ بقرہ میں قصاص کا حکم نازل ہو چکا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ في القتلى (البقرة: 129) تم پر مقتولوں کے بارہ میں برابر کا بدلہ لینا فرض کیا گیا ہے اور فرماتا ہے وَلَكُم فِي الْقِصَاصِ حَيَوةٌ يَأُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 180) اور اسے عقلمندوں تمہارے لئے بدلہ لینے میں زندگی کا سامان ہے اور یہ حکم اس لئے ہے تا کہ تم بیچ جاؤ۔نیز سورۃ بنی اسراءیل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيْهِ سُلْطَنَّا فَلَا يُسْرِفُ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا (بنی اسراءیل:34) اور جس جان کو مارنا اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اُسے شرعی حق کے سوا قتل نہ کرو۔اور جو شخص مظلوم مارا جائے اس کے وارث کو ہم نے قصاص کا اختیار دیا ہے پس اس کے لئے یہ ہدایت ہے کہ وہ قاتل کو قتل کرنے میں ہماری مقرر کردہ حد سے آگے نہ بڑھے۔اگر وہ حد کے اندر رہے گا تو یقیناً ہماری مدد اس کے شامل حال ہوگی۔