قتل مرتد اور اسلام — Page 62
62 کیا بھی کرتے تھے اور ایسے شخص کی شہادت جن کا علم صحا بہ کے علم سے بلا واسطہ ماخوذ ہے اور جو جھوٹ کے شبہ سے پاک ہے نظر انداز نہیں کی جاسکتی۔غرض قرآن شریف کی آیت کریمہ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ أَمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا أُخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ اس بات کا قطعی اور یقینی ثبوت ہے کہ اسلام میں مرتدین کو ارتداد کی سزا نہیں دی جاتی تھی اور ان کو ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا تھا ورنہ یہود کبھی ایسی تجویز نہ سوچتے اور نہ اس پر عمل کرتے اور نہ ان کو یہ امید ہوتی کہ ان کی اس تدبیر سے مسلمان اپنے دین سے پھر جاویں گے۔پس اس آیت کریمہ کی موجودگی میں یہ کہنا کہ قرآن شریف قتل مرتد کے سوال پر ساکت ہے ایک غلط دعویٰ ہے کیونکہ قرآن شریف بآواز بلند کہ رہا ہے کہ مرتد کی سزا قتل نہیں۔قرآن شریف پر ایک سرسری نظر کرنے سے مجھے پندرہ آیات ایسی ملی ہیں جن میں ارتداد یعنی کفر بعد اسلام کا ذکر ہے لیکن ان میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جس میں مرتد کے لئے قتل کی سزا کا ذکر ہو اور قتل مرتد کے حامی اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ ارتداد کی آیات میں اُخروی سزا کا تو ذکر ہے مگر اس دنیا میں قتل کی سزا دئے جانے کا ذکر کہیں نہیں۔لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس دنیا میں ان کو قتل کی سزا نہیں دی جائے گی اور اس امر کی تائید میں وہ قرآن شریف کی مندرجہ ذیل آیت پیش کرتے ہیں۔وَمَنْ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَلِدًا فِيهَا وَغَضِ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء: 94) اور جو شخص کسی مومن کو دانستہ قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے۔وہ اس میں دیر تک رہتا چلا جائے گا اور اللہ اس سے ناراض ہو گا اور اسے اپنی جناب سے دور کر دے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کرے گا۔