قتل مرتد اور اسلام — Page 37
37 ہے۔کیونکہ اگر ایک مسلمان بادشاہ کسی شخص کو محض اس لئے قتل اور سنگسار کرنے کا حکم دیتا ہے کہ اس نے ایک غیر مذہب اختیار کیا ہے تو غیر مذاہب کی سلطنتیں اس کے مقابل میں ان لوگوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گی جو ان کی رعایا میں سے اسلام قبول کرنا چاہیں گے اور کسی اسلامی مبلغ کو اجازت نہیں دیں گی کہ ان کے علاقہ میں قدم بھی رکھے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام کی اشاعت رک جائے گی۔پس مرتدین کے لئے محض ارتداد کی سزا میں قتل کا فتویٰ دینے والے نہ صرف قرآن شریف کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ اسلام کو سخت نقصان پہنچاتے ہیں۔وہ اسلام کے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں۔خدا تعالی اسلام کو ایسے دوستوں کے ہاتھوں سے بچائے۔آمین ثم آمین ! قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک پڑھ جاؤ۔تم یہ تو جا بجا لکھا ہوا دیکھو گے کہ خدا کے نبیوں کے دشمن بڑے ظالم تھے۔وہ دین کے معاملہ میں جبر سے کام لیتے تھے اور جبراً لوگوں کا اپنا دین چھوڑنے سے روکتے تھے لیکن یہ تم کہیں بھی لکھا ہوا نہ پاؤ گے کہ مومنوں کی جماعتیں بھی جبر سے کام لیتی تھیں اور جو لوگ سچے دین سے منہ پھیر کر بت پرستی یا شرک کی طرف یا کسی اور گمراہی کی راہ یا جھوٹے دین کی طرف رجوع کرتے تھے ان کو مومن قتل اور سنگسار کر دیا کرتے تھے۔سارے قرآن شریف کو پڑھ جاؤ تم کوئی ایسی مثال نہیں پاؤ گے۔پھر تم قرآن شریف میں یہ تو لکھا ہو اپاؤ گے کہ انبیاء کے دشمن بڑے ظالم تھے کیونکہ وہ دین کے معاملہ میں جبر واکراہ سے کام لیتے تھے لیکن یہ کہیں نہیں لکھا ہوا پاؤ گے کہ مسلمانوں کے لئے نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے کہ وہ جبر وا کراہ سے کام لیں بلکہ برخلاف اس کے ہم قرآن شریف میں یہ کھلا کھلا اور صریح اعلان دیکھتے ہیں کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: 257) کہ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں۔