قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 36 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 36

36 سنگسار کریں تو وہ ظالم ہیں۔کیا کوئی عقلمند انسان مولوی صاحب کے اس جواب سے تسلی پا سکے گا؟ نیپال کے راجہ کو اور چین کی حکومت کو اپنے مذہب کی صداقت کا ایسا ہی یقین ہے جیسا کہ امیر صاحب افغانستان کو یقین ہے۔پس اگر امیر صاحب افغانستان کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو سنگسار کر دیا کریں جو اس کے خیال میں اس کے مذہب سے ارتداد اختیار کریں تو نیپال کے راجہ اور گورنمنٹ چین کو بھی حق پہنچتا ہے ہے کہ وہ بھی ایسے لوگوں کو قتل کر دیا کریں جو ان کے آبائی مذہب سے ارتداد اختیار کریں۔جس اصول پر ایک ہندو راجہ کے لئے ناجائز ہے کہ وہ کسی کو مذہب کی تبدیلی سے رو کے اُسی اصول پر ایک مسلمان امیر کے لئے بھی ناجائز ہے کہ وہ کسی کی تبدیلی مذہب میں مزاحم ہو۔تم ایک ہندو راجہ کو کیوں ظالم کہتے ہو جب وہ کسی ہندو کو اسلام قبول کرنے سے روکتا ہے؟ کیا اسی لئے کہ ہندو مذہب ایک جھوٹا مذہب ہے اور اسلام ایک سچا مذہب ہے؟ کیا یہی دلیل ہے جو تم ہندو راجہ کے سامنے یا عقلمند طبقہ کے سامنے اس کے ظلم کو ثابت کرنے کے لئے پیش کرو گے؟ کیا تم ہندو راجہ کو یہ کہو گے کہ تم اس لئے ظالم ہو کہ تمہارا مذ ہب جھوٹا ہے اور اسلام سچا ہے اور تم لوگوں کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ جھوٹے مذہب کو چھوڑ کر سچا دین اختیار کریں؟ تم کس دلیل سے اس ہندو راجہ کا ظلم لوگوں پر اور خود اس راجہ پر واضح کرو گے؟ تم کبھی اپنی دلیل کو اس پیرا یہ میں پیش نہیں کرو گے کہ کسی انسان کو حق نہیں کہ وہ لوگوں کو جھوٹے دین سے بچے دین کی طرف آنے سے رو کے بلکہ تم یہ کہو گے کہ کسی انسان کو حق نہیں کہ وہ کسی شخص کو ایک دین سے دوسرے دین میں آنے سے روکے۔پس اگر یہ دلیل درست ہے ( اور ضرور درست ہے ) تو جیسا کہ راجہ نیپال کو حق نہیں کہ وہ کسی ہندو کوعیسائی، بدھ یا مسلمان ہونے سے روکے اور ایسا کرنے والوں کو سنگسار کرے، ایسا ہی امیر صاحب کابل اور کسی اور بادشاہ کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی شخص کو محض ارتداد کی سزا میں قتل یا سنگسار کرے۔ایسا کرنا نہ صرف اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے بلکہ اسلام کو سخت نقصان پہنچانا