قتل مرتد اور اسلام — Page 25
25 پھر فرماتا ہے:۔نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ فَذَكَرُ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ (46:3) ہم ان کی باتوں سے خوب واقف ہیں اور تو ان پر ایک جابر بادشاہ کے طور پر مقرر نہیں کیا گیا۔سو تو قرآن کے ساتھ صرف اس کو نصیحت کر جو میرے عذاب کی پیشگوئیوں سے ڈرتا ہے۔پھر فرماتا ہے:۔وَلَوْ شَاءَ اللهُ مَا أَشْرَكُوا وَمَا جَعَلْنَكَ عَلَيْهِمْ حَفِيْظًا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكيل (الانعام: 108) ٥ ' اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے تجھے ان پر محافظ نہیں مقرر کیا اور نہ تو ان پر نگران ہے۔ان آیات سے اور اسی مضمون کی بہت سی دوسری آیات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں پر بطور محافظ اور داروغہ کے مقرر ہو اور ان کو جبر سے اسلام پر یہ میں داخل کرے اور جو داخل ہو چکے ہوں ان کو بھٹکنے سے روکے رکھے۔اس کا کام صرف سمجھا دینا ہے اور بس۔اور جب خود نبی کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی رنگ میں جبر سے کام لے تو اس کے اتباع کس طرح جبر سے کام لے سکتے ہیں۔نبی کو ایمان اور کفر کی جزا سزا سے کوئی سروکار نہیں حامیان دربار کابل اس بات کے مدعی ہیں کہ اسلام صرف ارتداد اور محض ارتداد کے لئے قتل کی سزا مقرر کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی کو اس امر سے کوئی تعلق نہیں کہ وہ کسی کے کفر پر کسی کو سزا دے یہ خدا کا کام ہے جس کو چاہے معاف کرے اور جس کو چاہے