قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 240 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 240

240 پہنچتا۔کیونکہ حضرت ابو بکر کا قتال ایسے لوگوں کے خلاف تھا جو سلطنت سے باغی تھے۔یہ درست ہے کہ بعض صحابہ نے خصوصاً حضرت عمرؓ نے مشورہ کے وقت حضرت ابوبکر کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ کس طرح ایسے لوگوں سے جہاد کر سکتے ہیں جو لا الله الا اللہ کہنے والے ہیں کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں سے کبھی جہاد نہیں کیا۔مگر حضرت عمر کا یہ سوال ایسا ہی تھا جیسا کہ حضرت ابوبکڑ نے ایک دوسرے موقع پر خود حضرت عمرؓ سے سوال کیا۔جب حضرت عمرؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ یمامہ کی لڑائی میں بہت سے قاری شہید ہو گئے ہیں۔اور اگر اسی طرح کی اور لڑائیاں پیش آئیں تو خوف ہے کہ قرآن کے حفاظ کے شہید ہو جانے سے قرآن شریف کے بعض حصے معدوم نہ ہو جاویں۔اس لئے ضروری ہے کہ اس وقت قرآن شریف کی حفاظت کا کوئی انتظام کیا جاوے اور اس کو ایک جگہ لکھ کر محفوظ کر لیا جاوے۔اس وقت حضرت ابو بکڑ نے بھی حضرت عمرؓ سے ایسا ہی سوال کیا جیسا کہ حضرت عمرؓ نے حضرت ابوبکر سے مانعین زکوۃ کے سوال کے موقع پر کیا۔حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ میں کس طرح ایسا کام کر سکتا ہوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا ؟ پس یہ دونوں سوال ایک ہی رنگ کے ہیں اور ان کا ایک ہی جواب ہے اور وہ یہ ہے کہ ہر ایک کام کا ایک وقت ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے دشمنوں سے واسطہ پڑا جو مسلمانوں کو امن سے زندگی بسر کرنے نہیں دیتے تھے۔وہ مسلمانوں کو دکھ دیتے تھے اور چاہتے تھے کہ تلوار کے ساتھ اسلام کا نام و نشان مٹادیں۔آپ نے ایسے دشمنوں کا مقابلہ کیا اور ملک میں امن و امان قائم کر کے ایک اسلامی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور شرائع اسلام کو نافذ کیا۔اور دوسری شرائع کے درمیان آپ نے زکوۃ کا فریضہ بھی تمام اہل نصاب پر قائم کیا اور اس کی وصولی کا انتظام کیا۔آپ کے وقت میں کوئی ایسی مسلمان کہلانے والی قوم نہ اٹھی جو فریضہ زکوۃ کے ادا کرنے سے انکار کرے۔اس لئے آپ کو کسی ایسی قوم سے قتال کی ضرورت ہی پیش نہ آئی۔یہ ضرورت