قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 21 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 21

21 وَقُل لَّهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيْفًا (النساء:64) ان سے ایسی باتیں کرو جو اچھی طرح ان کے دلوں پر اثر کریں وہ حربہ جس کے چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے خود اسلام کی تعلیم ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (الرّوم: 31) یعنی یہ دین کیا ہے؟ خدا کی بنائی ہوئی سرشت ہے جس خدا نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔لوہا لوہے کو کا تھا ہے اور فطرت انسانی پر وہی چیز اثر کر سکتی ہے جو عین فطرت کے مطابق ہو۔پس دشمن کے دل کو فتح کرنے کے لئے سب سے بڑا ہتھیار خود قرآن شریف ہے۔اس نے وہ کام کیا جو کوئی تلوار نہیں کر سکتی۔وہی ہتھیار اب بھی موجود ہے مگر ہمارے مخالف مولوی صاحبان کے ہاتھ میں طاقت نہیں کہ اس کو چلا سکیں اس لئے اس آسمانی تلوار کو چھوڑ کر زمینی تلوار کی طرف جھک گئے ہیں۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ کسی کو ہدایت دینا ہمارے اختیار میں نہیں اس لئے تلوار کے ذریعہ کسی کو اسلام کی طرف لوٹانے کی کوشش کرنا ایک بے سود فعل ہے۔ہمارا کام صرف پہنچا دینا ہے اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں بار بار ہمیں سمجھاتا ہے کہ ہمارا کام صرف پیغام پہنچانا ہے کسی کو اسلام لانے کے لئے مجبور کرنا ہمارا کام نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔مَا عَلَى الرَّسُولِ إِلَّا الْبَاغُ (المائدة: 100) کہ رسول پر صرف بات کا پہنچانا واجب ہے۔پھر فرماتا ہے:۔ج وَاطِيعُوا اللهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوا فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ