قتل مرتد اور اسلام — Page 177
177 تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ صحابہ کو یہ صلح بہت دوبھر معلوم ہوئی کیونکہ اس میں وہ اپنی سیکی سمجھتے تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس صلح کی شرائط پر اعتراض کیا۔اور اگر شریعت اسلام میں یہ بھی حکم ہوتا کہ مرتد پر قتل کی حد جاری کی جائے تو جہاں صحابہ نے اپنے دوسرے اعتراض پیش کئے وہ یہ بھی عرض کرتے کہ مرتد کے لئے تو شریعت اسلام کا یہ حکم ہے کہ اس پر قتل کی حد جاری کی جائے اس کے متعلق آپ کیوں ایسی شرط منظور فرماتے ہیں؟ مگر انہوں نے ایسا اعتراض نہیں کیا جس سے ظاہر ہے کہ شریعت اسلام میں مرتد کے لئے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی۔تیسرا ثبوت۔تیسرا ثبوت اس امر کا اسلام میں مرتد کے لئے قتل کی سزا مقررنہ تھی وہ مکالمہ ہے جو ابوسفیان اور ہر قل کے درمیان مقام ایکیا میں ان ایام میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین مکہ کے مابین صلح ہو چکی تھی یعنی صلح حدیبیہ کے بعد۔ابوسفیان خود اس سوال و جواب کا ذکر کرتا ہے جو ہر قل قیصر روم اور اس کے مابین واقع ہوا وہ کہتا ہے کہ جب ہر قل نے مجھے اپنے دربار میں بلایا تو میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے کھڑا کر دیا اور ان کو کہا کہ میں اس شخص کے بارے میں جو تمہارے ملک میں نبوت کا دعوی کرتا ہے تمہارے اس ساتھی (ابوسفیان ) سے کچھ سوال کروں گا۔اگر یہ شخص اپنے جواب میں کوئی بات خلاف واقعہ بیان کرے تو تم اس کی فور تردید کر دینا۔ابوسفیان کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ اگر میں جھوٹ کہوں گا تو میرے ساتھی میری تردید کر دیں گے اور اس طرح مجھے اس بادشاہ کے دربار میں شرمندہ ہونا پڑے گا تو میں اپنے جوابات میں ضرور جھوٹ سے کام لیتا۔اور میں نے بہت کوشش کی کہ میں اپنے جوابات میں کوئی ایسی بات بھی ملا دوں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہو۔مگر مجھے کوئی ایسا موقع نہ ملا۔سوائے ایک بات کے اور وہ یہ تھی کہ جب اس نے مجھ سے سوال کیا کہ یہ نبی اپنے عہد میں کیسا ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ اب تک تو اس نے ہمارے ساتھ کوئی عہد شکنی نہیں