قتل مرتد اور اسلام — Page 171
171 غرض اس بات میں ذرا بھی شک و شبہ نہیں ہوسکتا کہ قرآن شریف بہر حال احادیث پر مقدم ہے۔قرآن شریف کا ایک ایک حرف اور ایک ایک نقطہ یقینی اور قطعی ہے اور اس میں انسان کا ذرا بھی دخل نہیں۔اور اکثر درجہ احادیث غائت درجہ ظنی ہیں اور انسان کی دست برد سے خالی نہیں۔پس قرآن شریف کا حق ہے کہ اسے حکم بنایا جاوے۔اور اگر کوئی حدیث قرآن کی صریح تعلیم کے خلاف ہو تو اول تو ہمیں اس حدیث کو ایسے مفہوم میں لینا چاہئیے جو قرآن شریف کے مخالف نہ ہو۔اور اگر کوئی صورت تطبیق کی نہ ہو تو پھر ہمیں قرآن شریف کو حدیث پر مقدم رکھنا چاہئیے نہ کہ اس حدیث کو جو کہ قرآن شریف کے صریح مخالف ہو۔اس لئے موجودہ بحث میں پہلے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ آیا مرتد کا محض ارتداد کے لئے قتل کرنا قرآن شریف کی تعلیم کے مطابق ہے یا اس کے خلاف ہے؟ اگر قرآن شریف سے قطعی اور یقینی طور پر یہ امر ثابت ہو جائے کہ کسی شخص کو محض اس لئے قتل کر دینا کہ اس نے اسلام کو ترک کر کے کوئی اور مذہب اختیار کر لیا ہے اسلام کی تعلیم کے موافق اور مطابق ہے اور قرآن شریف کی تعلیم کی یہی روح ہے کہ ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہئیے جو اسلام لا کر پھر ارتداد اختیار کرتا ہے تو ہمیں بسر و چشم اس عقیدہ کو قبول کرنا چاہیئے اور اس پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔لیکن اگر قرآن کریم سے یہ ثابت ہو کہ مرتد کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل کرنا ایک ظلم ہے تو پھر بہر حال قرآن شریف کو مقدم کرنا ہوگا اور اگر کوئی روایت قرآن شریف کے صریح خلاف ہو تو اسے مجبورا ترک کرنا پڑے گا۔عدم قتل مرتد کا ثبوت حدیث سے اس کے بعد میں نہایت خوشی سے اس بات کا اظہار کرتا ہوں کہ جیسا قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرتد کو محض ارتداد کے لئے قتل کرنا جائز نہیں اسی طرح احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے کسی مرتد کو محض ارتداد کے لئے قتل