قتل مرتد اور اسلام — Page 172
172 نہیں کرایا۔اور یہ کہ ارتداد کی سزا قتل نہ تھی اور مرتد کے لئے کوئی شرعی سزا مقرر نہیں۔یہ دعوی ہے جس کے ساتھ میں بفضلہ تعالیٰ حدیث کے مضمون کو شروع کرتا ہوں اس دعوی کا ثبوت حسب ذیل ہے:۔پہلا ثبوت۔صحیح بخاری میں مندرجہ ذیل واقعہ اس امر کا فیصلہ کر دیتا ہے کہ مرتد کیلئے محض ارتداد کے واسطے کوئی شرعی حد مقرر نہ تھی۔اس حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں۔عن جابر بن عبدالله ان اعرابیا بایع رسول الله صلى الله عليه وسلم على الاسلام فاصاب الاعرابي وعك بالمدينة فجاء الاعرابى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اقلني بيعتي فأبى رَسُولُ الله صلى الله عليه وسلم ثم جاء فقال اقلنی بیعتى ثم جاء ه فقال اقلني بيعتي فأبى فخرج الاعرابي فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم "إنّما المدينة كالكير تنفي خبثها وتنصع طيبها (فتح الباری جلد 13 صفحہ 173 و بخاری ہندی صفحہ 1070 ) یعنی جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اسلام پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔اس کے بعد اعرابی کو مدینہ میں بخار ہو گیا۔پھر وہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔اور کہنے لگا کہ میری بیعت مجھے واپس دے دیں۔پھر وہ دوبارہ آیا اور کہنے لگا کہ میری بیعت مجھے واپس دے دیں۔آپ نے انکار فرمایا۔پھر وہ اعرابی مدینہ سے چلا گیا۔اس پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ ایک بھٹی کی طرح ہے وہ میل کو نکال دیتا ہے اور اصل پاکیزہ چیز کو خالص کر دیتا ہے۔اب بیدار تعداد کا واقعہ ہے جو مدینہ میں واقع ہوا۔ایک شخص اسلام لانے کے بعد