قتل مرتد اور اسلام — Page 13
13 سے اُتریں۔یہ پانچ آیتیں پانچ پھول ہیں جو اسلامی بہار کے آغاز میں کھلے۔ان کو سونگھو اور دیکھو کہ ان سے کیسی خوشبو آتی ہے تا آپ کو معلوم ہو کہ اس موسم بہار میں کس رنگ کے پھول کھلنے والے تھے۔یہ پانچ آیتیں اسلام کے باغ کا سب سے پہلا پھل ہیں ان کو چکھو اور ان سے اندازہ لگاؤ کہ اس باغ کے دوسرے پھل کس رنگ اور کس مزہ کے ہونے چاہئیں۔وہ پانچ آیتیں، وہ اسلام کا پہلا پیغام جواہل دنیا کے نام آسمان سے نازل ہوا یہ ہے۔اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ & اِقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمْ يَعْلَمْ ﴾ (العلق : 62) ان آیات سے کیا ظاہر ہوتا ہے؟ کیا یہی نہیں کہ اب ایک ایسا دین اتر نا شروع ہوا ہے کہ جو ایک علم کے رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس کی اشاعت قلم کے ذریعہ یعنی دلائل اور براہین کے ذریعہ ہوگی نہ جبر وا کراہ کے ذریعہ۔قرآن شریف کے سوا اور کونسی کتاب ہے جس کے جھنڈے پر قلم کا نشان ہے؟ اور اسلام کے سوا اور کونسا دین ہے جس نے علم کو اپنا Motto اور مقصود قرار دیا ہے۔تمام دنیا کے مذاہب میں سے یہ امتیازی نشان صرف اسلام نے اپنے لئے انتخاب کیا ہے۔پس کیا یہ ظلم نہیں کہ ایسے دین کی نسبت جو قلم کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہوا اور جس نے اپنے پیغام کو علم کے لفظ سے تعبیر کیا یہ کہا جائے کہ اس نے اپنی اشاعت کے لئے اپنے پیروؤں کو حکم دیا کہ وہ تلوار کے زور سے لوگوں کو اپنے دین میں داخل کریں اور جو داخل ہو کر نکلنا چاہے اس کا سر قلم کر دیں۔اپنی تلوار کی دھار پر گھمنڈ کر نیوالو! ممکن ہے کہ قلم اور دوات تمہاری نظر میں بہت حقیر اور ذلیل ہوں مگر خدا ان کو عزت دیتا ہے اور ان کے نام پر اپنی پاک کتاب میں قسم کھاتا ہے۔قرآن شریف میں اس سورۃ شریفہ کو تلاش کرو جس کا نام سورۃ القلم رکھا گیا ہے اور دیکھو وہ کن مبارک الفاظ کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔