قتل مرتد اور اسلام — Page 12
12 کرے تو اسے بلا تامل اور بلا دریغ صرف ارتداد اور محض ارتداد کی سزا میں قتل کر دیا جائے۔یہ بھی ایسا مسئلہ ہے کہ قرآن شریف میں اس کا بیج ہی مفقود نہیں بلکہ یہ مسئلہ قرآن شریف کی تمام تعلیم کے خلاف اور اس کے بالکل الٹ ہے اور اس مسئلہ کو قرآن شریف سے وہی نسبت ہے جو تاریکی کو نور سے ہے اور جس طرح نو راور ظلمت ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ایسا ہی قرآن شریف کی تعلیم قتل مرتد کے مسئلہ کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی۔قرآن شریف کی تعلیم قتل مرتد سے ایسی ہی دور ہے جیسے مغرب سے مشرق بلکہ اس سے بھی زیادہ اور ان میں باہمی وہی تفاوت ہے جو بیچ اور جھوٹ میں تفاوت ہے۔اگر یہ مسئلہ درست ہے تو پھر نعوذ باللہ قرآن شریف جھوٹا ہے اور اگر قرآن شریف سچا ہے تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ یہ مسئلہ جس رنگ میں آج ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے بالکل غلط ہے یعنی یہ کہ ایک مرتد کو محض ارتداد اور تنہا ارتداد کے جرم میں قتل کر دینا واجب یا جائز ہے۔ہے۔ناظرین ملاحظہ فرما چکے ہیں کہ قتل مرتد کے متعلق ان لوگوں کے کیا کیا خیالات ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ ہر ایک مرتد صرف ارتداد اور محض ارتداد کے لئے واجب القتل اب ہم قرآن شریف کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ایسے خیالات کا کچھ اصل قرآن شریف میں بھی پایا جاتا ہے اور کیا یہ مسئلہ قرآن شریف کی تعلیم سے ذرہ بھی مناسبت رکھتا ہے یا بالکل اس کے الٹ اور مخالف ہے؟ اسلام ایک علمی مذہب ہے جب ہم قرآن شریف پر نظر کرتے ہیں تو سب سے پہلی بات جو ہماری آنکھوں کے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن شریف اسلام کو ایک سائنس اور فلسفہ کے رنگ میں پیش کرتا ہے۔سب سے پہلی وحی ہی کو دیکھو جو آنحضرت ﷺ پر غار حرا میں نازل ہوئی۔قرآن شریف کی ان پانچوں آیتوں کو پڑھو جو سب سے اوّل بطور پیش خیمہ آسمان