قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 152 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 152

152 حامیان قتل مرتد کو نفع پہنچے گا۔ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتا ہے۔اى لا تكرهوا احدًا على الدخول في دين الاسلام فانه بين واضح جلی دلائله و براهينه لا يحتاج الى ان يكره احد على الدخول فيه بل من هداه الله الى الاسلام وشرح صدره ونور بصيرته دخل فيه على بينة ومن اعمى الله قلبه وختم على سمعه وبصره فانّه لا يفيده الدخول في الدين مكرها مقسورا وقد ذكروا ان سبب نزول هذه الآية في قوم من الانصار وان كان حكمها عامًا (ابن کثیر برحاشیہ فتح البیان صفحه ۱۵۱) لا اکراہ فی الدین کے یہ معنے ہیں کہ کسی کو دین اسلام میں داخل ہونے کے لئے مجبور نہ کرو کیونکہ وہ کھلا کھلا اور واضح ہے اور اس کے دلائل اور براہین روشن ہیں اور وہ اس بات کا محتاج نہیں کہ کسی کو اس میں داخل ہونے کے لئے مجبور کیا جاوے بلکہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ اسلام کی طرف راہنمائی فرماتا ہے اور اس کے سینے کو کھول دیتا ہے اور اس کو نور بصیرت عطا فرماتا ہے تو ایسا شخص علی بصیرت اسلام میں داخل ہو جاتا ہے اور جس کے دل کو اللہ تعالیٰ اندھا کر دیتا ہے اور اس کے کان اور آنکھ پر مہر کر دیتا ہے تو ایسے شخص کو اگر جبر سے اسلام میں داخل کیا جاوے تو اس سے اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور بیان کیا گیا ہے کہ یہ آیت انصار کی ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی اگر چہ اس کا حکم عام ہے۔حامیان قتل مرتد ابن کثیر کی تفسیر کوغور سے پڑھیں اور سچ بتائیں کہ یہ تفسیر ان کے دل کو بھاتی ہے یا نہیں ؟ اور خود ہی انصاف سے فرمائیں کہ لا اکراہ فی الدین کی کون سی تفسیر ان کو زیادہ معقول معلوم ہوتی ہے؟ آیا یہ تفسیر کہ جتنا چاہو جبر کر لو اور لوگوں کو جبر سے اسلام میں داخل کر لیا کرو۔جبر سے اسلام منوانا جب نہیں کہلاسکتا یا ی تعلیم کہ اسلام اس بات کا محتاج نہیں کہ لوگوں کو جبر سے اس میں داخل کیا جاوے اور جبر سے کسی کو اسلام میں داخل