قتل مرتد اور اسلام — Page 146
146 " القول الثانى انها ليست بمنسوخة وانما نزلت في اهل الكتاب خاصة و انهم لا يكرهون على الاسلام اذا ادّوا الجزية بل الذين 66 يكرهون هم اهل الأوثان فلا يقبل منهم الا الاسلام او السيف پس یہی عقیدہ تھا کہ مشرکین اور اہل الاوثان سے سوائے اسلام یا تلوار کے اور کچھ قبول نہ کیا جاوے اور ان کو اسلام لانے پر مجبور کیا جائے جو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے لئے محرک ہوا کہ وہ لا اکراہ فی الدین کے ایسے معنی اختیار کریں جن سے جبر کی اجازت ثابت ہو۔اس لئے انہوں نے وہ معنے اختیار کئے جو میں اوپر نقل کر چکا ہوں۔لیکن یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ معنے تکلف سے بنائے گئے ہیں۔اگر انسان خالی الذہن ہو کر ان الفاظ کو پڑھے گا تو ان کے یہی معنے کرے گا کہ ان الفاظ میں جبر وا کراہ کی ممانعت کی گئی ہے۔کسی اہل زبان سے یا ایسے شخص سے جو عربی دان کہلا سکتا ہو لا اکراہ فی الدین کے معنی پوچھو تو وہ اس کے یہی معنی کرے گا کہ ان الفاظ میں جبر واکراہ کی ممانعت پائی جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں میں سے بھی جو مشرکین کے لئے جبر جائز قرار دیتے ہیں اکثر نے لا اکراہ فی الدین کے یہی معنے لئے ہیں کہ دین میں اکراہ نہیں ہونا چاہیئے اور اس وقت بھی جن مولوی صاحبان نے موجودہ بحث میں حصہ لیا ہے انہوں نے بھی با وجود حضرت ولی اللہ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے قول کو پیش کرنے کے خودان معنوں کو اختیار نہیں کیا بلکہ عملی طور پر وہی معنے تسلیم کئے ہیں جو اس آیت کے صاف اور کھلے کھلے معنے ہیں۔اور اگر چہ بہت حیلہ بازی سے کام لے کر مرتد کو اس آیت کریمہ کے دائرہ سے باہر رکھنے کی ناکام کوشش کی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کر سکے کہ لا اکراہ فی الدین کے معنے یہی ہیں کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہونا چاہئیے۔حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کا اپنے ایک عقیدہ کے ماتحت اس آیت کی تفسیر میں اس کے متبادر اور حقیقی معنوں کو نظر انداز کر کے ایک ایسے مفہوم کو اختیار کرنا جو تکلف