قتل مرتد اور اسلام — Page 128
128 جائے۔وہ جو دلائل کے ساتھ غیر ممالک کو فتح کر سکتا ہے اس کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اپنے ارد گرد چاردیواری کھینچ کر گھر میں محفوظ ہو کر بیٹھ جائے۔وہ گھر سے باہر نکلے گا اور دشمنوں کو شکست پر شکست دے گا اور نئے ممالک کی تسخیر کر کے اپنے علاقہ کو وسعت دے گا۔اور اگر اس کے علاقہ پر کوئی دشمن حملہ آور ہو گا تو وہ اسی دلائل کی تلوار سے اس کو بھی شکست دے گا۔وہ قلعہ جس میں اسلام محفوظ ہے وہ دلائل اور سچائی کا قلعہ ہے۔اس کو اپنی حفاظت کے لئے ایسی کچی دیواروں کی ضرورت نہیں جس کو دشمن اپنے ظاہری بازو کی طاقت سے توڑ سکے۔یہ دیوار جو مولوی صاحب اسلام کے گرد کھینچنا چاہتے ہیں یعنی غیر مذاہب کے مشنریوں کو اسلامی علاقوں میں داخل ہونے سے روک دینا یہ تو نہایت ہی بودی دیوار ہے جس کو دشمن اپنے ظاہری بازو کی قوت سے توڑ سکتا ہے بلکہ یہ دیوار تو اس سے قبل ہی ٹوٹ چکی ہے۔اگر اسی دیوار پر اسلام کی حفاظت کا دارو مدار تھا تو اب اسلام کی خیر نہیں کیونکہ یہ دیوار تو ہر طرف سے ٹوٹی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ تو زمین سے پیوست ہو چکی ہے۔یہ تو اسلام کی دولت کو نہیں بچا سکتی۔ہندوستان میں کئی کروڑ مسلمان ہیں اب ہندوستان کی دولت کو مولوی صاحب کس طرح دیوار کے ذریعہ بچائیں گے؟ کیا مولوی صاحب کے ہاتھ میں طاقت ہے کہ ہندوستان کے ارد گرد کوئی ایسی دیوار کھینچیں کہ ہندوستان کی حدود کے اندر کوئی مشنری گھنے نہ پائے؟ کیا مولوی صاحب کے ہاتھ میں کوئی ایسی تلوار ہے جس کے زور سے وہ ان مشنریوں کی فوجوں کو جو اس وقت ہندوستان میں غارت گری میں مصروف ہیں ہندوستان سے باہر نکال سکیں ؟ کیا ایران کے اردگرد یا مصر کے حدود پر یا شام کے ساحل پر یا عراق کے کناروں پر یا خود استنبول میں جو خلیفتہ المسلمین' کا تخت گاہ رہ چکا ہے مولوی صاحب کوئی ایسی سید سکندری کھڑی کر سکتے ہیں کہ مسیحی مشنری ان علاقوں میں گھس نہ سکے اور اس طرح ہماری موجودہ دولت محفوظ رہ سکے؟ مولوی صاحب ! اگر یہی دیوار تھی جو آپ کی دولت کی محافظ تھی تو یہ دیوار تو اب مسمار ہو کر خاک سے مل چکی ہے۔اب آپ