قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 127 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 127

127 قانون جاری کریں گی اور اسلام کی اشاعت کا کام بند ہو جائے گا۔66 اس اعتراض کے جواب میں مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اول تو اگر وہ ایسا کریں گے تو ہم ان کو حق بجانب نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کا مذہب جھوٹا ہے اور ہمارا سچا۔تاہم یہ ضرور ہے کہ وہ ایسا کر گزریں تو ہم ان کو روک بھی نہیں سکتے۔نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک طرف اگر نو مسلموں کا سلسلہ رک جائے گا تو دوسری جانب پرانے مسلمانوں کا اسلام سے نکلنا بھی بند ہو جائے گا اور میں خیال کرتا ہوں کہ موجودہ دولت کی حفاظت غیر موجود دولت کی تحصیل سے اہم اور مقدم ہے۔“ معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب نے یہ سبق ہندوؤں سے سیکھا ہے۔ہندوؤں کو چونکہ اپنی کمزوری کا علم ہے اس لئے ان کو یہ تو امید نہیں تھی کہ میدان میں نکل کر کسی توحید پرست مذہب پر فتح پالیں گے اس لئے انہوں نے یہ فیصلہ کر دیا کہ کسی غیر کو اپنے مذہب میں داخل ہی نہ کیا جاوے اور اپنی موجودہ دولت کی ہر طرح حفاظت کی جاوے اور اسی غرض کے حاصل کرنے کے لئے انہوں نے چھوت چھات وغیرہ کے قواعد جاری کر دئے تا کسی طرح ہماری حاصل شدہ دولت ہمارے ہاتھ سے نہ نکل جائے۔مگر اسلام ہندو مذہب کی طرح نہیں ہے وہ ایک فاتح مذہب ہے اس کے ہاتھ میں سچائی کی تلوار ہے اور کسی میں طاقت نہیں کہ اس کے سامنے ٹھہر سکے۔اس کو اس امر کی ضرورت نہیں کہ وہ اس خوف سے کہ کہیں اس کی دولت چھینی نہ جائے اپنے گھر کے دروازے غیروں پر بند کر دے۔اس کو اس امر کی ضرورت نہیں کہ وہ غیر مذاہب کے مشنریوں سے اپنی دولت بچانے کے لئے اپنے گھر کے دروازے بند کر دے اور اپنی چار دیواری کے اندر محصور ہوکر بیٹھ جائے۔یہ تو کمزوری کی علامت ہے۔اس کے ہاتھ میں ایک تلوار ہے جس کے سامنے ایک تثلیث پرست مشنری ایک لمحہ کے لئے ٹھہر نہیں سکتا۔پھر اس کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ایسا طریق اختیار کرے جس کا نتیجہ یہ ہو کہ اس کی فتوحات کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند ہو