قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 126 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 126

126 کونسل تک لڑوں گا کہ ایک ہندو استری کوستی کی مقدس رسم کے ذریعہ اپنی وفا داری اور جان شاری کا ثبوت دینے سے روکنا مذ ہبی امور میں دخل اندازی ہے جو ملکہ وکٹوریہ کے شاہی اعلان کے بالکل خلاف ہے۔میں پھر مولوی صاحب کو یاد دلاتا ہوں کہ جس آزادی ضمیر کی قرآن شریف تعلیم دیتا ہے اور جس کی صحت کو تمام مہذب دنیا تسلیم کرتی ہے اس کا صرف یہی مطلب ہے کہ اگر ایک شخص کوئی خاص عقیدہ رکھتا ہے تو محض اس کے عقیدہ کی بنا پر اس کو سزا نہیں دینی چاہئیے اور نہ اس پر کسی طرح کا جبر کرنا چاہیے۔اسی طرح اس عقیدہ کی بناء پر اگر وہ کوئی ایسا کام کرتا ہے جس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہے دوسروں کے مال و جان وعزت پر اس کا کوئی اثر نہیں تو ایسے فعل کے لئے بھی ہمیں اسے کسی قسم کی سزا دینے سے اجتناب کرنا چاہئیے۔ہاں سمجھانا ہمارا فرض ہے اگر وہ سمجھے تو آخر الحیل السیف پر عمل نہیں کرنا چاہئیے کیونکہ اس کا معاملہ خدا کے سپرد ہے۔خدا تعالیٰ خود اس سے پوچھ لے گا۔کسی عقیدہ کی وجہ سے سزا دینا ہمارا کام نہیں۔حکومت صرف اسی وقت دخل دے سکتی ہے جب وہ لوگوں کے مال یا جان یا عزت یا دوسروں کے حقوق پر حملہ کرے اور تمدن دنیا میں خلل انداز ہو۔قتل مرتد اور حفاظت اسلام مولوی شبیر احمد صاحب دیو بندی قتل مرتد کی تائید میں ایک بڑی بھاری دلیل یہ دیتے ہیں کہ حفاظت اسلام میں اس میں بڑی مدد ملے گی۔قتل مرتد کے جواز یا وجوب کی صورت میں یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اگر مسلمان حکومتیں یہ قانون بنائیں کہ جو شخص اسلام میں سے نکل کر کوئی غیر مذہب مثلاً مسیحیت و غیر ہا کو قبول کرے گا تو اس کو قتل کیا جائے گا۔اور اس بناء پر یہ قاعدہ بھی جاری کریں کہ غیر مسلموں کو ان کے ملک میں اپنے مذہب کی تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں تو اسکا نتیجہ یہ ہوگا کہ غیر مسلم سلطنتیں بھی اسلام کے خلاف ایسا ہی