قتل مرتد اور اسلام — Page 122
122 اور تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پھر جائے اور پھر کفر کی حالت میں ہی مرجائے تو یاد رکھے کہ ایسے لوگوں کے اعمال اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اکارت جائیں گے اور ایسے لوگ دوزخ کی آگ میں پڑنے والے ہیں۔وہ اس میں دیر تک رہیں گے۔پس مرتد ہماری ظاہری سلطنت کے باغی نہیں بلکہ وہ آسمانی بادشاہت کے باغی ہیں۔ایسے باغیوں سے ظاہری سلطنت کو کوئی سروکار نہیں۔ان کا معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے وہ خود ہی ان سے نپٹ لے گا۔ہمارے سپر دصرف انہی امور کا انتظام ہے جن کا تعلق تمدن سے ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ صرف مرتد ہی اسلام سے باغی نہیں بلکہ ہر ایک ایسا شخص جو اسلام کو قبول نہیں کرتا اسلام سے باغی ہے۔اسلام کی سلطنت صرف ان لوگوں تک محدود نہیں جو اس کو قبول کرتے ہیں بلکہ اس کے حدود روئے زمین کے کناروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔جن وانس سب اس کی رعایا میں داخل ہیں اور تمام دنیا کی قومیں اس بات کی پابند ہیں کہ اس کے آگے سرتسلیم خم کریں۔کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایک قوم یا ایک ملک یا ایک زمانہ کے لئے نہیں بلکہ تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام آنے والے زمانوں کے لئے بنا کر بھیجے گئے ہیں۔آپ کی دعوت تمام دنیا کی طرف ہے اور آپ کی کتاب کل عالم کے لئے نازل ہوئی ہے اور آپ کا دین روئے زمین کے ہر فرد و بشر کے لئے قائم کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (سبا:29) اور (اے رسول) ہم نے تجھ کو تمام بنی نوع انسان کی طرف جن میں سے ایک بھی تیرے حلقہ رسالت سے باہر نہ رہے ایسا رسول بنا کر بھیجا ہے جو مومنوں کو خوشخبری دیتا اور کافروں کو ہوشیار کرتا ہے۔پھر فرماتا ہے:۔