قتل مرتد اور اسلام — Page 118
118 مکہ کے صنادید مسلمانوں کو دکھ دینے میں حق پر تھے بلکہ یروشلم کے فریسی اور فقیہ اور نمرود اور فرعون اور وہ تمام لوگ حق پر تھے جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں آبائی دین ترک کرنے والوں کو دکھ دیا اور طرح طرح کی اذیتیں پہنچا ئیں۔کیونکہ جو دلائل آج ریاست کابل کے امیر اور علماء کے فعل کی تائید میں پیش کئے جاتے ہیں وہی دلائل یہ لوگ اپنی تائید میں پیش کر سکتے تھے اور یہی امران دلائل کے غلط ہونے کے لئے کافی دلیل ہے کیونکہ ان سے ایسے افعال کی تائید ہوتی ہے جن کو اللہ تعالیٰ اپنی پاک کتاب میں ظلم اور تعدی قرار دے چکا ہے۔کیا قتل مرتد اسلام کو بے حرمتی سے بچانے کیلئے ضروری ہے؟ ایک اور دلیل جو قتل مرتد کی تائید میں پیش کی گئی یہ ہے کہ اسلام کو بے حرمتی سے بچانے کے لئے مرتد کا قتل کرنا ضروری ہے۔مولوی ظفر علی خان صاحب لکھتے ہیں۔از برائے خدا مجھے بتائیں کہ آخر اس قانون کو جس کا نام اسلام ہے بے حرمتی سے بچانے کے لئے واضع قانون کو کسی تدبیر کے اختیار کرنے کا حق بھی حاصل ہے یا سے نہیں؟ میں مولوی صاحب سے پوچھتا ہوں کہ اگر ایک غیر مذہب کا شخص انہی کے الفاظ میں ان سے یہی سوال کرے تو وہ اس کو کیا جواب دیں گے؟ ایک سناتن دھرمی راجہ اپنے ملک میں یہ قانون جاری کرتا ہے کہ جو شخص اس کی رعایا میں سے مسیحیت یا اسلام کو قبول کرے تو اس کو قتل کیا جائے اور اس کی تائید میں یہی دلیل پیش کرتا ہے کہ میں اپنے دھرم کا محافظ ہوں اور میرا فرض ہے کہ جو شخص اس مذہب کو ترک کر کے اس کی بے حرمتی کرتا ہے میں اس کو سزا دوں اور اس طرح اپنے دھرم کو بے حرمتی سے بچاؤں۔کیا مولوی صاحب اس کے اس فعل کو اس دلیل کی وجہ سے جائز قرار دیں گے؟ مولوی صاحب! آپ ایسے