قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 111 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 111

111 میں اور ایسے اعمال میں جن کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہے اس کو پوری آزادی حاصل ہے۔اگر ایک شخص خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا اور خدا کے آگے گریہ وزاری نہیں کرتا تو ہم اس پر کوئی سزا جاری نہیں کر سکتے لیکن اگر وہ دوسرے کا مال چھینتا ہے یا زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو وہاں شریعت اور انسانی حکومت ضرور دخل دیں گی کیونکہ یہاں وہ تمدن کو نقصان پہنچاتا ہے۔ایسی صورت میں وہ بغیر سزا کے نہیں چھوڑا جائے گا۔قرآن شریف کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ کوئی حکم نہیں دیتا جس کے ساتھ اس کی دلیل بیان نہ کرے۔چنانچہ اسی اصول کے مطابق جب ہدایت اور گمراہی کے متعلق یہ حکم دیا ہے کہ کسی پر جبر نہ کیا جاوے وہاں یہی دلیل بیان فرمائی ہے کہ چونکہ کسی کی ہدایت یا گمراہی سے دوسروں کے حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ اس میں صرف اسی شخص کی اپنی ذات کا تعلق ہے اس لئے اس میں جبر سے کام نہیں لینا چاہئیے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الزمر میں فرماتا ہے۔إِنَّا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ ۚ فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۚ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيْلٍ (الزمر:42) ہم نے تجھ پر لوگوں کے فائدہ کے لئے حق کے ساتھ یہ کتاب اتاری ہے پس جس نے راہ پائی اس نے اپنا بھلا کیا اور جو گمراہ ہو گیا تو اس کی گمراہی کا نقصان اسی کو پہنچے گا اور تو ان کا ذمہ وار نہیں ہے۔“ اس آیت کریمہ میں بہت سی دیگر آیات کی طرح یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ایمان اور کفر کے معاملہ میں جبر سے کام نہیں لینا چاہئیے اور ساتھ ہی اس کی وجہ بھی بیان کر دی ہے۔یعنی یہ کہ اگر ایک شخص راہِ راست کو اختیار کرتا ہے تو اس میں اس کا اپنا فائدہ ہے اور اگر راہِ راست کو چھوڑتا ہے تو اس میں اس کا اپنا نقصان ہے۔دوسرے لوگوں کے حقوق کا کوئی نقصان نہیں اس لئے کوئی جبر نہیں ہونا چاہیئے۔