قتل مرتد اور اسلام — Page 112
112 اس آیت میں الجمعیة کے اس اعتراض کا بھی جواب آ گیا ہے کہ اگر عقیدہ میں آزادی دی جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ ہر ایک کا عقیدہ درست ہے۔یہ استدلال قرآن شریف کی متذکرہ بالا آیت سے رڈ ہوتا ہے کیونکہ اس میں صاف بتلایا گیا ہے کہ اس آزادی سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ سب کے عقائد درست ہیں اور کسی کو آخرت میں سزا نہیں دی جائے گی بلکہ وہی راہ راست پر سمجھے جائیں گے جو خدا تعالیٰ کی بتائی ہوئی راہ کو قبول کریں گے اور جو اس راہ کو اختیار نہیں کریں گے وہ گمراہ سمجھے جائیں گے اور اس کا بدلہ ان کو آخرت میں مل جائے گا۔اور آزادی کے صرف یہی معنے ہیں کہ ان پر جبر نہ کیا جاوے اور اس دنیا میں عقائد کی وجہ سے ان کو سزا نہ دی جائے۔کیا اسلام میں داخل ہونے کے بعد اکراہ فی الدین جائز ہے؟ الجمعية کی تمام شقوں کا تصفیہ کرنے کے بعد اب میں ان مولوی صاحبان کی ایک اور دلیل کو لیتا ہوں جس کے ذریعہ انہوں نے قتل مرتد کو لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: ۲۵۷) کے حکم سے خارج کرنے کی کوشش کی ہے۔مولوی شاکر حسین صاحب سہسوانی اپنے مضمون مندرجہ زمیندار میں تحریر فرماتے ہیں :۔وو داخل فی الاسلام کے لئے اور احکام ہیں اور خارج عن الاسلام کے لئے اور۔اس بناء پر آیت شریفہ لَا اِکراہ فی الدین کا مفہوم کسی طرح بھی مفید مطلب نہیں ہے۔یہ امر کہ کسی کو زبر دستی مسلمان نہ کیا جائے کسی طرح بھی اس کو مستلزم نہیں کہ قبول اسلام کے بعد انسان جب چاہے اس کا جو اگر دن سے اُتار کر پھینک دے۔معمولی اور موٹی سی بات ہے کہ بادشاہ وقت کسی کو زبردستی اپنی ملازمت میں منسلک نہیں کرتا۔لیکن جو شخص اس کی ملا زمت میں داخل ہو چکا ہے اس کو کبھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ اپنی خوشی سے جو چاہے کرے یا جب چاہے اس ذیل سے نکل جائے۔اور جولوگ ایسا کرتے ہیں وہ حسب اعمال