قتل مرتد اور اسلام — Page 8
8 قرآن شریف اور قتل مرند مسلمانوں میں سے جن علماء نے قتل مرتد کا فتویٰ دیا ہے وہ دوگروہوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں۔ایک وہ جن کی یہ رائے ہے کہ مرتد کے قتل کی وجہ ارتداد نہیں اور اس گروہ میں محققین مذہب حنفیہ شامل ہیں۔دوسر اوہ گروہ ہے جن کا یہ خیال ہے کہ صرف ارتدار اور تنہا ارتداد ہی وہ جرم ہے جس کے لئے بے دریغ قتل کا حکم دیا گیا ہے۔چونکہ اس وقت جن لوگوں نے اس بحث کو اٹھایا ہے اور قتل مرتد کے وجوب پر زور دیا ہے ان کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ اسلام محض ارتداد کے لئے قتل کی سزا مقرر کرتا ہے اس لئے میں اس گروہ کے خیالات کی کسی قدر یہاں تشریح کرنا چاہتا ہوں۔تا ناظرین کو معلوم ہو کہ یہ تعلیم جو اسلام اور نبی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کی جاتی ہے کیسی بھیا نک اور مکروہ تعلیم ہے جو ایک دم کے لئے بھی اسلام جیسے پاکیزہ مذہب اور آنحضرت ﷺ جیسے مقدس انسان کی طرف منسوب نہیں ہو سکتی۔یہ ایسی خلاف فطرت تعلیم ہے کہ ایک معمولی درجہ کا شریف انسان بھی اس کو کراہت کی نظر سے دیکھے گا چہ جائیکہ اشرف النبین سید الاولین والآخرین مے جسے پاکیزہ فطرت اور مطہر انسان کو اس کا جاری کرنے والا ٹھہرایا جائے۔ان لوگوں کا خیال ہے کہ چونکہ اصل وجہ قتل کی ارتداد ہی ہے اس لئے جو بھی مرتد ہو اس کو بے دریغ تہ تیغ کر دینا چاہئیے خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔جوان ہو یا بوڑھا۔آزاد ہو یا غلام۔تندرست ہو یا بیمار۔غرض کوئی ہو اس کو قتل کر کے فور أواصل جہنم کرنا چاہیئے اور اس طرح دنیا میں اسلام کی شوکت اور عظمت کا سکہ بٹھانا چاہیے۔اگر ایک مرتد شیخ فانی ہے تو اس کو اجازت نہیں دینی چاہئیے کہ وہ چند روز اور زندگی کے دن پورے کر کے اس عالم سے