قتل مرتد اور اسلام — Page 101
101 لیں کہ پھر اس کا ارتکاب نہیں کریں گے۔پھر لکھا ہے:۔" فيه ثلاثة اقوال۔الاوّل الأمر بقتل انفسهم۔الثاني الاستسلام بالقتل والثالث التذليل للاهواء اس بارے میں تین قول ہیں۔اول یہ کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اپنے نفسوں کو قتل کر دیں۔دوم یہ کہ قتل کے لئے اپنے تئیں حوالہ کر دیا۔سوم خواہشات کو دبا دیا۔پھر لکھا ہے:۔"وقيل توبوا اليه من افعالكم واقوالكم وطاعاتكم واقتلوا انفسكم فی طاعاته وقتل النفس عما دون الله و عن الله بانفراغ من طلب الجزاء حتى ترجع الى اصل العدم ويبقى الحق كمالم يزل 66 (بحر المحیط جلد اصفحه ۲۰۹) یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے یہ معنے ہیں کہ اپنے افعال، اقوال اور طاعات سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اپنے نفسوں کو خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری میں فنا کر دو اور اپنے نفس کا قتل کر دینا ماسوی اللہ سے اور اللہ تعالیٰ سے اس طور پر کہ طلب جزاء سے فارغ ہو جاوے یہاں تک کہ اصل عدم کی طرف لوٹ آئے اور حق ہی حق باقی رہ جائے جیسا کہ وہ ہمیشہ سے ہے۔یہ تمام تفاسیر مولوی شبیر احمد صاحب کے استدلال کا ابطال کر رہی ہیں اور ان میں سے ایک بھی نہیں جو مولوی صاحب کے لئے کچھ سہارے کا موجب ہو۔کیونکہ اول تو قتل نفس کے معنے ہی نفسانی خواہشوں کا مٹانا لکھا ہے اور جب ان الفاظ کو ظاہری قتل کے معنے میں لیا گیا ہے تو اس کو تو بہ کا قائمقام قرار دیا گیا ہے اور اس قتل کا نام شہادت رکھا ہے۔اور لکھا ہے کہ پہلی امتوں پر اس قسم کے بوجھ ڈالے گئے تھے اور امت محمدیہ پر