قتل مرتد اور اسلام — Page 88
88 حسد کی وجہ سے یہ خواہش کرنا کہ کسی طرح مسلمان اپنے دین کو چھوڑ کر اپنا پہلا کفر اختیار کر لیں یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس طرح دین کے چھوڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی جاتی ہے۔علاوہ ازیں اگر ارتداد کی سزا قتل ہوتی تو اللہ تعالیٰ یہ فرما تا کہ یہ یہود تمہارے دشمن ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تمہیں مرتد بنا کر قتل کروا دیں۔پس اس آیت کریمہ کا مفہوم بھی اسی امر پر دال ہے کہ مرتدین کو تل نہیں کیا جاتا تھا۔نویں آیت وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا (ال عمران : 145) اور جو اپنے الٹے پیروں کفر کی طرف لوٹ جائے گا تو وہ خدا تعالیٰ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا۔یہ آیت کریمہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ مرتد کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ اول تو یہاں باوجود موقع ہونے کے کسی ایسی سزا کا ذکر نہیں کیا گیا۔دوسرے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ایسا شخص خدا کا یعنی اسلام اور مسلمانوں کا کچھ بگاڑ نہیں سکے گا ظاہر کرتا ہے کہ ارتداد کی سزا اقل نہیں تھی کیونکہ اگر ایک شخص نے مرتد ہوتے ہی قتل کیا جانا تھا تو پھر بگاڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا تھا جس نے فورا قتل ہو جانا ہو وہ کسی کا کیا بگاڑ سکتا ہے؟ دسویں آیت وَمَن يَتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ (البقرة: 109) اور جو ایمان کے بدلے کفر اختیار کرے تو وہ سیدھے رستہ سے بھٹک گیا۔یہاں بھی اس بات کا موقع تھا کہ اگر ارتداد کی کوئی دنیوی سزا تھی تو اس کا ذکر کیا جاتا۔یہاں صرف اتناہی بتایا گیا ہے کہ ایسا شخص سید ھے راستے سے بھٹک جاتا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کے لئے صرف اُخروی سزا ہوسکتی ہے۔جوشخص سید ھے راستے سے