قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 73 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 73

73 جو شخص ایمان لائے پیچھے خدا تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے سوائے اس کے جو کفر پر مجبور کیا جائے اور س کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔لیکن ہاں وہ جو جی کھول کر کفر کرے تو ایسے لوگوں پر خدا کا غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے۔یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں پسند کیا اور یہ کہ اللہ ان لوگوں کو جو کفر کرتے ہیں ہدایت نہیں دیا کرتا۔“ اس آیت کریمہ میں بھی دوسری آیات کی طرح صرف اُخروی سزا کا ذکر ہے قتل کی سزا کا کوئی ذکر نہیں۔لیکن مولوی ظفر علی خان صاحب اس آیت کریمہ پر یہ جرح کرتے ہیں کہ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اُخروی وعید کے علاوہ اس دنیا میں کوئی اور سزا نہ ملنی چاہئیے۔اول تو کسی آیت میں بھی قتل کی سزا کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے لیکن اگر اس آیت پر غور کیا جائے تو صرف یہی ظاہر نہیں ہوتا کہ اس میں صرف اُخروی سزا پر انحصار کیا گیا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے کیونکہ (1) قتل کی سزا میں اکراہ لازم آتا ہے اور اس آیت کریمہ میں کنایہ (اور دیگر آیات میں صراحۃ) (اکراہ فی الدین کو نا جائز قرار دیا گیا ہے اور ایسے لوگوں کو جو تبدیلی عقائد کی وجہ سے لوگوں کو دکھ دیتے ہیں برا کہا گیا ہے۔(2) اس آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ عقائد کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔پس اگر ایک انسان قتل کے خوف سے ظاہر میں ایمان کا اقرار بھی کرے مگر دل سے کافر ہو تو ایسے اقرار سے مسلمانوں کو یا خود اس شخص کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ (3) ان آیات میں مرتدین پر غضب کی وجہ بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ذلِكَ بِأَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَوةَ الدُّنْيَا عَلَى الْآخِرَةِ