قتل مرتد اور اسلام — Page 70
70 واقعہ کے ساتھ مختص نہیں سمجھا جاوے گا۔جیسا کہ مسلّم ہے۔پس اگر حامیان قتل مرتد کا یہ کہنا درست بھی مان لیا جائے کہ یہ آیات ان یہود کے متعلق ہیں جنہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ جب نبی موعود کا ظہور ہوگا تو ہم ان پر ایمان لائیں گے لیکن آنحضور پر نور کے ظہور قدسی کے وقت وہ منکر ہو گئے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ آیات عام مرتدین پر چسپاں نہیں ہو سکتیں جو اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کریں۔علاوہ ازیں خودان آیات کا مضمون اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ یہود کے لئے مخصوص نہیں بلکہ عام ہیں۔ان آیات میں تین گروہوں کا ذکر ہے۔اوّل وہ جو ارتداد اختیار کرنے کے بعد پھر بھی تو بہ کرتے ہیں۔دوم وہ جوتو یہ نہیں کرتے بلکہ اپنے کفر میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔تیسرے وہ جو ابتداء سے ہی کا فر رہتے ہیں۔یہ ایک عام تقسیم ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کو یہود تک محدود کیا جائے۔اسی طرح ان آیات سے ماقبل کی آیت دیکھو:۔وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن تُقْبَلَ مِنْهُ ۚ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخُسِرِينَ (آل عمران : 86) اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو اختیار کرنا چاہے تو وہ یادر کھے کہ وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔اور آخرت میں وہ نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔کیا یہ آیت صرف یہود کے لئے مخصوص ہے یا سب پر حاوی ہے۔پھر ان آیات سے مابعد کی آیت پڑھو :۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (ال عمران: 93) تم کامل نیکی کو ہرگز نہیں پاسکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ اشیاء میں سے خدا کے لئے خرچ نہ کرو۔کیا حامیان قتل مرتد کے نزدیک اس آیت میں صرف یہود ہی مخاطب ہیں؟ جب