قتل مرتد اور اسلام — Page 65
65 حکم موجود ہے۔اسی طرح اگر مرتد کے لئے بھی قتل کی سزا مقرر ہوتی تو جب بار بار قرآن شریف مرتد کے لئے اُخروی سزا کا ذکر کرتا ہے (جیسے عام کافر کے لئے ) تو کم از کم ایک مرتبہ ہی اس کے قتل کئے جانے کا ذکر فرما دیتا۔پس قرآن شریف کا بار با را خروی سزا کا ذکر کرنا اور قتل کی سزا کا کہیں بھی ذکر نہ کر نا صاف طور پر ظاہر کرتا ہے کہ مرتد کے لئے خدا تعالیٰ نے قتل کی سزا مقرر نہیں فرمائی۔خصوصاً جب کہ ہم تمام قرآن شریف کو ضمیر کی آزادی کی آیات سے بھرا ہوا دیکھتے ہیں اور جب کہ علی الا علان اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنُ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرُ اور لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ۔کہ جو چاہے مانے اور جو چاہے نہ مانے اور یہ کہ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں۔ہدایت اور گمراہی کا فرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔نیز یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ارتداد کی آیات قریباً سب کی سب مدینہ میں ایسے وقت میں نازل ہوئیں جب کہ اسلامی سلطنت قائم ہو چکی تھی اور قتل کی سزا کا نفاذ بھی ہو سکتا تھا۔پھر کیوں اُخروی سزا پر انحصار رکھا گیا حالانکہ اُخروی سزا کا تو انسان مشاہدہ نہیں کر سکتا۔اس لئے سب سے پہلے وہ سزا بیان کرنی چاہئیے تھی جونزول کے وقت دی جاسکتی تھی۔لیکن میں کہتا ہوں یہ کہنا بھی درست نہیں کہ قرآن شریف کی آیات متعلقہ ارتد اقتل مرتد کے سوال پر ساکت ہیں۔میں او پر لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف میں کم از کم پندرہ آیات ایسی ہیں جن میں کفر بعد اسلام کا ذکر ہے اور ان میں سے ہر ایک اس امر کی شہادت دیتی ہے کہ مرتد کے لئے اسلام میں قتل کی سزا نہیں ہے۔ان پندرہ آیات میں سے ایک آیت تو وہ ہے جس کے متعلق میں پہلے بحث کر چکا ہوں یعنی وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ امِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا أُخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (ال عمران : ۷۳)