قتل مرتد اور اسلام — Page 60
60 زیر آیت اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ امَنُوا۔۔۔الآية روح المعانى جلد 2 صفحہ 196 میں لکھا ہے۔عن الحسن انّهم طائفة من اهل الكتاب ارادوا تشكيك اصحاب رسول الله الا الله فكانوا يظهرون الايمان بحضرتهم ثم يقولون قد عرضت لنا شبهة أخرى فيكفرون ثم يظهرون ثم يقولون قد عرضت لنا شبهة اخرى فيكفرون ويستمرون على الكفر الى الموت۔و ذلك معنى قوله تعالى - وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ امِنُوا بِالَّذِى أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا اخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ۔حسن بصری کا قول ہے کہ آیت کریمہ اِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ اہل کتاب کا ایک گروہ تھا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے دل میں اسلام کے متعلق شک ڈالنا چاہا اس لئے وہ ان کے پاس آ کر پہلے اپنے ایمان کا اظہار کرتے پھر کہتے ہمارے دل میں اور شبہ پیدا ہو گیا ہے۔پھر انکار کرتے ، پھر موت تک اسی انکار پر قائم رہتے اور یہی معنے ہیں اس آیت کے وَقَالَتْ ظَابِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ امِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِيْنَ امَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا خِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (ال عمران: ۷۳) اور اہلِ کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ مومنوں پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر دن کے ابتدائی حصہ میں تو ایمان لے آؤ اور اس کے پچھلے حصہ میں اس سے انکار کر دو۔شاید اسی ذریعہ سے وہ پھر جائیں۔حسن بصری کے متعلق جن کا قول میں اوپر نقل کر چکا ہوں تہذیب التہذیب جلد 2 صفحہ 465 میں لکھا ہے:۔