قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 49 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 49

49 مسلمانوں کو ایسے خبیث لوگوں سے پاک اور صاف رکھنا چاہتا ہے۔مگر قتل مرتد کے حامی چاہتے ہیں کہ اسلام ایسے گند سے کبھی پاک نہ ہو اور منافقوں کا ناپاک اور خبیث گروہ ضرور مسلمانوں میں ہر وقت موجود رہنا چاہئیے اور اگر کبھی کوئی فرد اس گروہ کا مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہونا چاہے تو اس کو قتل کا خوف دے کر جبر سے دوبارہ مسلمانوں کی جماعت میں داخل کرنا چاہئیے تا یہ گندضرور مسلمانوں میں موجودرہے۔پس دیکھو قرآن شریف کی تعلیم میں اور ان لوگوں کے خیالات میں کس قدر بعد اور ڈوری ہے۔قرآن شریف کہتا ہے ان لوگوں کو نکالو۔مگر یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کو بجائے باہر نکالنے کے پھر لوٹا کر مسلمانوں میں داخل کریں۔ہیں تفاوت راہ از کجا است تا به کجا۔منافقین کی مثال قتل مرتد کے سوال کو ایک اور پہلو سے بھی حل کر دیتی ہے۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ منافقین کو بھی مرتد ہی قرار دیتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے:۔يَحْلِفُوْنَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ (التوبة: 74) یہ (منافق) اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم نے تو یہ ( بیجا ) بات نہیں کہی حالانکہ ضرور انہوں نے کفر کا کلمہ کہا اور اسلام لائے پیچھے کافر ہوئے۔“ پھر منافقین کی نسبت فرماتا ہے:۔لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ (التوبة: 66) باتیں نہ بناؤ حق تو یہ ہے کہ تم ایمان لائے پیچھے کا فر ہو گئے۔“ پھر سورۃ منافقون میں اللہ تعالیٰ منافقوں کا ذکر مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتا ہے:۔اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ أَمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوا فَطِيعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ (المنافقون: 4۔3)