قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 261 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 261

261 قتل مرتد اور فقہ قرآن شریف اور حدیث اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اسلام میں محض ارتداد کے لئے کوئی سزا مقر نہیں کی گئی ضرورت نہ تھی کہ کتب فقہ کی طرف رجوع کیا جاوے۔لیکن حامیان قتل مرتد کے اس دعوی کو توڑنے کے لئے کتب فقہ اُن کے ساتھ ہیں یہ نا مناسب نہ ہوگا کہ کتب فقہ کی طرف بھی توجہ کی جائے تا معلوم ہو سکے کہ یہ کتابیں اُن کو کہاں تک پناہ دے سکتی ہیں۔پس اس غرض سے جب میں کتب فقہ کی طرف رجوع کرتا ہوں تو مجھے یہ معلوم کر کے نہایت خوشی ہوتی ہے کہ فقہاء میں سے فرقہ احناف اس اصول میں بالکل ہمارے ساتھ متفق ہے کہ اسلام میں محض ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔بلکہ مرتد کے قتل کرنے کی اصل وجہ اُس کا حربی ہونا ہے۔اس کا ثبوت یہ ہے:۔(۱) سب سے پہلے میں فقہ کی مشہور کتاب هـــدایــه کو لیتا ہوں۔اُس میں مرتدہ عورتوں کے متعلق بحث کرتے ہوئے صاحب ہدایہ لکھتا ہے:۔ولنا ان النبي عليه السلام نهى عن قتل النساء ولان الاصل تأخير الأجزية الى دار الآخرة اذ تعجيلها يخل بمعنى الابتلاء وانما عدل عنه لدفع شر ناجز و هو الحراب ولا يتوجّه ذلك من النساء لعدم صلاحية البنيه بخلاف الرجال۔یعنی مردہ عورت کے نہ قتل کرنے کی دو وجہیں ہیں ایک یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ہے۔اور دوسرے یہ کہ سزا دینے سے متعلق اصل یہ ہے کہ اس کو آخرت پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس دنیا میں سزا دینا ابتلاء کی حقیقت کو توڑنا ہے اور اگر اس قاعدہ سے عدول کیا جاتا