قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 253 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 253

253 مندرجہ بالا حوالہ جات سے ناظرین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عبداللہ ابن سباء اور اس کے اتباع کیسی خطرناک قوم تھی اور یہی وہ لوگ تھے جو حضرت علی کو خدا کہتے تھے اور اس کی پارٹی کے لوگوں کو مدائن کی طرف جلا وطن کر دیا مگر وہ لوگ پھر بھی اپنی شرارت سے باز نہ آئے۔اور جن لوگوں کا ذکر عکرمہ کی روایت میں ہے کہ وہ اسی پارٹی کے آدمی تھے پس اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پارٹی کے بعض افراد کو کسی رنگ میں قتل کیا تو وہ ان کے ارتداد کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس لئے تھا کہ یہ ایک مفسدوں کی جماعت تھی جن کو نہ حضرت علیؓ سے محبت تھی نہ اسلام سے بلکہ جو دراصل مسلمانوں کی سماج کے دشمن تھے اور ان کے عصا کو توڑنا چاہتے تھے۔پس ان کی مثال سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اگر کوئی شخص اسلام ترک کر کے ہندو یا مسیحی ہو جاوے تو اس کو قتل کر دیا جاوے۔ابن سباء اور اس کے ساتھیوں کی مثال محض مرتدین پر ہرگز چسپاں نہیں ہوسکتی ہے اسی طرح خلفائے راشدین کے عہد میں کوئی بھی ایسی مثال نہیں مل سکے گی جس کی نسبت قتل مرتد کے حامی یہ ثابت کر سکیں کہ فلاں صورت میں محض ارتداد اور خالص ارتداد کے لئے کسی مرتد کو محض مذہبی بناء پر قتل کیا۔تمام تاریخی مرتدین کی نسبت تاریخ بیان کر رہی ہے کہ ان سے قتال خالص ارتداد کی وجہ سے نہیں کیا گیا۔اور اگر بالفرض کوئی ایسی روایت بھی ہو جس کے متعلق کوئی تاریخی ثبوت نہ مل سکے تو ایسے شاذ و نادر واقعات کو کثرت کے تابع کرنا پڑے گا اور یہی نتیجہ نکالنا پڑے گا کہ یہ صورت بھی عام صورت کے مطابق ہے۔ہرا یک واقعہ ہمیں پوری تفصیل کے ساتھ نہیں پہنچا مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ زمانہ جنگ و جدال لے حضرت علی کا ایک اور قول بھی ہمارے دعوی کی تائید کرتا ہے۔آپ نے فرمایا تجهزوا لقتال المارقين المختلین جس کے معنے نہا یہ لا بن اثیر جلد 3 صفحہ 190 میں یہ لکھے ہیں کہ ایسے لوگوں کے قتال کی تیاری کرو جو احکام دین کی حدود اور اطاعت امام سے نکل گئے ہیں اور جنہوں نے امام کے خلاف بغاوت اور سرکشی کی ہے۔نیز دیکھو لسان العرب لفظ غلام۔