قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 246 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 246

246 قریب ہوئے تو انہوں نے اس کو قتل کر دیا۔(۳) حضرت علی رضی اللہ عنہ فوج لے کر اس مقام پر پہنچے تو انہوں نے جاتے ہی حملہ نہیں کر دیا بلکہ حملہ کرنے سے پہلے ان کو کہلا بھیجا کہ تم ان لوگوں کو ہمارے حوالہ کر دو جنہوں نے ہمارے آدمیوں کو قتل کیا ہے تا ہم ان کو قتل کر دیں۔ہم دوسروں سے فی الحال درگزر کرتے ہیں اور ان کی مہلت دیتے ہیں تا شاید ان کے خیالات میں تبدیلی پیدا ہو جائے اور ان کی حالت سدھر جائے۔مگر انہوں نے جواب دیا کـلـنــا قـتـلـهـم وكـلنـا مستحل لدماء كم و دمائهم یعنی ہم سب نے ان کو قتل کیا اور ہم سب تمہارے خونوں کا اور ان کے خونوں کا بہانا جائز سمجھتے ہیں۔مندرجہ بالا حوالجات سے ظاہر ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کسی مذہبی اختلاف کی وجہ سے خوارج سے لڑائی نہیں کی بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ملک میں فتنہ وفساد برپا کر دیا اور مسلمان مردوں اور عورتوں کو قتل کر دیا۔اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ والی اور اس کی لونڈی کو قتل کر دیا اور نیز آپ کے ایچی کو قتل کیا۔اور جب حضرت علی نے ان سے مطالبہ کیا کہ جن آدمیوں کو تم نے قتل کیا ہے ان کے قاتل میرے حوالہ کر دو۔تو انہوں نے جواب دیا ہم سب ان کے قاتل ہیں اور ہم نہ صرف ان کا خون بہانا جائز سمجھتے ہیں بلکہ تمہارا خون بہانا بھی جائز سمجھتے ہیں۔علاوہ ازیں خوارج کی مثال حامیان قتل مرتد کے لئے اس وجہ سے بھی مفید نہیں کہ اکثر علماء کا اتفاق ہے کہ خارجی لوگ مرتد نہیں بلکہ فرقة من فرق المسلمین کا حکم رکھتے ہیں۔فتح الباری جلد 12 صفحہ 247 میں لکھا ہے:۔قال الخطابي اجمع علماء الاسلام على ان الخوارج مع ضلالتهم فرقة من فرق المسلمين واجازوا مناكحتهم واكل ذبائحم وانهم لا يكفرون ما داموا متمسکین باصل الاسلام۔“