قتل مرتد اور اسلام — Page 239
239 زکوۃ کا مال صاحب نصاب لوگوں سے لے کر فقراء کیلئے اور ان کے مصارف کے لئے جن کی تفصیل قرآن شریف میں بیان کی گئی ہے خرچ کرے۔اللہ تعالیٰ نے خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ دَقَةٌ کہہ کر نہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلکہ آپ کے جانشینوں اور اسلامی حکومتوں کے امراء کوحکم دیا ہے کہ وہ زکوۃ کا مال وصول کریں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وصولی کا انتظام اپنے ہاتھ میں لیا۔اور تمام علاقوں میں اپنی طرف سے عامل مقرر کئے۔جن کا یہ فرض تھا کہ وہ زکوۃ کے مال کو وصول کریں اور آپ کے زمانہ میں زکوۃ ٹھیک اسی طرح وصول کی جاتی تھی جس طرح آج کل تمام حکومتیں اپنی اپنی رعایا سے مختلف قسم کے ٹیکس اور محاصل وصول کرتی ہیں۔اور چونکہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے جانشین تھے اس لئے ان کا بھی یہ فرض تھا کہ وہ ٹھیک اسی طرح زکوۃ کا مال مسلمانوں سے وصول کریں جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وصول فرمایا کرتے تھے۔اسی لئے حضرت ابو بکر نے فرمایا کہ اگر کوئی مسلمان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوزکوۃ میں ایک عقال بھی دیا کرتا تھا اور اب دینے سے انکار کرے گا تو میں تلوار کے زور سے اس سے وصول کروں گا۔پس اس کی وصولی اسی طرح تھی جس طرح کہ حکومتیں اپنی اپنی رعایا سے اپنے محاصل وصول کرتی ہیں۔اور اگر کوئی رعایا میں سے ایسے محاصل کو ادا کرنے سے انکار کرے تو سلطنت اپنی تلوار کے زور سے ان محاصل کو وصول کرتی ہے۔حضرت ابوبکر کے وقت میں جن مسلمانوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا ان کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ کوئی شخص رعایا میں سے سرکاری مالیہ ادا کرنے سے انکار کرے۔اور حضرت ابوبکر کا فرض تھا کہ وہ تلوار کے زور سے ایسے لوگوں سے زکوۃ وصول فرماتے۔وہ لوگ ایسے ہی باغی تھے جیسا کہ وہ لوگ سلطنت کے باغی سمجھے جاتے ہیں جو اپنی حکومت کو سرکاری ٹیکس ادا کرنے سے انکار کرتے ہیں۔پس اگر حضرت ابو بکر نے ایسے مسلمانوں سے قتال کیا جن کا سوائے اس کے اور کوئی جرم نہ تھا کہ انہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کیا تو اس سے ہمارے مخالفوں کو کوئی فائدہ نہیں