قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 224 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 224

224 یعنی سب سے پہلے جن قبیلوں نے مدینہ پر حملہ کیا وہ عبس وذبیان تھے۔انہوں نے پہلے حضرت ابوبکر پر حملہ کیا اور اُسامہ کی واپسی سے پہلے حضرت ابوبکر نے ان کے ساتھ جنگ کی۔ابن خلدون نے لکھا ہے فعاجلته عبس و ذبيان ونزل آخرون( بنو اسد۔فزاره غطفان طى ثعلبه بنو کنانه وغيرهم - تاریخ طبری جلد 4 صفحه 1873 الی صفحہ 1876) بذى القصه ابن خلدون جلد ۲ صفحہ ۶۵) یعنی عبس و ذبیان قبیلوں نے پہلے حضرت ابوبکر" پر حملہ کیا اور دوسری قومیں یعنی بنو اسد۔فزارہ۔غطفان طی۔تعلیہ۔بنو کنانہ وغیرھم ذی القصہ میں آکر جمع ہو گئے۔خمیس میں لکھا ہے:۔واقبل خارجة بن حصن بن حذيفة ابن بدر فكان ممن ارتد في خيل من قومه الى المدينة يريد ان يخذل الناس عن الجزوج او يصيب عزّة فيغير فاغار على أبي بكر ومن معه وهم غافلون۔تاریخ خمیس جلد 2 صفحہ 204 مطبوعہ 1283ھ) یعنی خارجہ بن حصن جو مرتدین میں سے تھا اپنی قوم کے کچھ سوار لے کر مدینہ کی طرف بڑھا تا کہ صحابہ کے نکلنے سے قبل ہی غفلت میں چھاپہ مارے اس لئے اُس نے حضرت ابوبکر اور آپ کے ساتھ کے مسلمانوں پر چھاپہ مارا جب کہ مسلمان بے خبر تھے۔بعض مرتدین نے مدینہ میں وفود بھیجے تا نماز وز کوۃ میں معافی مل جائے اور جب حضرت ابوبکر نے صاف جواب دے دیا اُن لوگوں نے مدینہ پر حملہ کیا۔ادھر حضرت ابوبکر نے اُن وفود کے چلے جانے کے بعد مسلمانان مدینہ کو اکٹھا کر کے یوں خطاب کیا۔ان الارض كافرة وقد رأى وفدهم منكم قلة وانكم لا تدرون أليلا تؤتون ام نهارًا و ادناهم منكم على بريد وقد كان القوم مائلون ان