قتل مرتد اور اسلام — Page 217
217 سوانح میں ایسی مثالوں کی تلاش کی ہے جن سے یہ ثابت ہو کہ صحا بہ بھی لوگوں کو محض ارتداد کی سزا میں قتل کر دیا کرتے تھے اور نہایت خوشی کی بات ہے کہ جیسا کہ ابھی انشاء اللہ تعالیٰ ناظرین پر روشن ہو جائے گا اس کوشش میں بھی اُن کو ایسی ہی تعلیخ نا کامی حاصل ہوئی ہے جیسی کہ قرآن شریف اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دائرہ میں۔میں ذیل میں وہ مثالیں نقل کرتا ہوں جو ان لوگوں نے صحابہ کے سوانح سے پیش کی ہیں۔(۱) حضرت ابوبکر نے مرتدین کے ساتھ جنگ کی۔(۲) مسیلمہ کذاب کے ساتھ جنگ کی گئی۔(۳) طلحه مدعی نبوت کے ساتھ جنگ ہوا۔(۴) حضرت ابوبکر کے زمانہ میں ام قرفہ کو بوجہ ارتد ا قتل کیا گیا۔(۵) حضرت علی نے زنادقہ کو جلا دیا۔(۶) حضرت علی نے خوارج کے ساتھ جنگ کی۔(۷) حضرت معاذ نے ایک مرتد یہودی کو قتل کرایا۔صحابہ کے متعلق بحث کرنے سے پہلے میں حامیان قتل مرتد سے ایک سوال کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ سوال یہ ہے کہ جن دواوین حدیث و فقہ پر وہ لوگ اس قدر زور دیتے ہیں اُن کا کسی صحابی کے قول یا فعل کے متعلق کیا فتو ی ہے۔کیا کسی صحابی کا قول یا فعل شریعت اسلام میں متفقہ طور پر حجت شرعیہ سمجھا گیا ہے۔اس کے متعلق میں کسی اپنی رائے کا اظہار نہیں کرتا صرف ان علماء سے پوچھتا ہوں کہ وہ خود بتائیں کہ اُن کے دواوین مسلّمہ و مقبولہ میں صحابی کے قول یا فعل کے متعلق کیا فتوی دیا گیا ہے۔اگر ان دواوین سے متفقہ طور پر یہ ثابت ہو کہ ہر ایک صحابی کا ہر ایک قول اور ہر ایک فعل حجت شرعی ہے تب تو صحابہ کے افعال و اقوال کی بحث ایک نہایت ضروری بحث سمجھی جائے گی۔لیکن اگر ان دواوین کے