قتل مرتد اور اسلام — Page 205
205 یکجائی نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ ان سے کیا نتیجہ نکلتا ہے۔اگر ان سب احادیث میں صرف کفر بعد اسلام یا تبدیلی کدین یا ارتداد کا ہی ذکر ہوتا اور کسی صحیح حدیث میں کوئی شرط نہ ہوتی مثلاً الفارق للجماعة کے الفاظ يا خالف دين الاسلام يا خرج محاربا الله ورسوله يا يخـرج مـن الاســلام فيحارب الله عزّوجل ورسوله يا حارب الله ورسوله۔اور حالات بھی اس قسم کے ہوتے کہ اُس زمانہ میں ایک شخص کا ارتدادصرف تبدیلی دین تک ہی محدود ہوتا اور اُس کے وجود سے اور کسی قسم کا خطرہ متوقع نہ ہو سکتا تب ہم اس بات لو تسلیم کر لیتے کہ بے شک ان احادیث سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ محض ارتداد کی سزا قتل ہے اور پھر اس حالت میں قرآن شریف کی کھلی کھلی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ دیکھتے کہ آیا قتل کا کوئی ایسا مفہوم ہوسکتا ہے جو قرآن شریف کی تعلیم کے مخالف نہ ہو۔مگر یہاں تو صورت ہی دگرگوں ہے۔اگر بعض احادیث میں محض ارتداد کا ذکر ہے تو اُس کے ساتھ دوسری احادیث میں جو صحیح بخاری اور دوسری کتب صحاح میں موجود ہیں اور اُن میں ارتداد کے ساتھ محاربہ کی شرط موجود ہے۔کسی میں الفارق للجماعة يا المفارق للجماعة کے الفاظ ہیں۔کسی میں خالف دین الاسلام کے الفاظ ہیں۔کسی میں صرف حارب الله و رسولہ کے ہی الفاظ ہیں۔اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اگر ایک امر کے متعلق دو قسم کی روایات ہوں بعض روایات میں قید ہو اور بعض میں قید کا ذکر نہ ہو تو ایسی صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہئیے۔اس کے فیصلہ کے لئے میں خود اپنی طرف سے کوئی قاعدہ پیش نہیں کرتا بلکہ وہی قائدہ پیش کرتا ہوں جو علماء اسلام میں مسلم چلا آتا ہے۔اس امر کے فیصلہ کے لئے اصول فقہ کا ایک مسلم قاعدہ ہے جو میں ذیل میں نقل کرتا ہوں۔نورالانوار میں لکھا ہے۔وعندنا لا يحمل المطلق على المقيد وان كانا في حادثة واحدة لامكان العمل بهما الا ان يكونا فى حكم واحد مثل صوم في قوله