قتل مرتد اور اسلام — Page 185
185 نکال کر دانتوں میں چبایا اور ان کے بدن کے ٹکڑوں کے ہار بنا کر بازوؤں اور پاؤں پر پہنے۔اس کو بھی بعد میں معافی دے دی گئی۔(۱۰) وحشی بن حرب۔ہندہ بنت عتبہ کا غلام۔اس نے ہندہ کے کہنے پر حضرت حمزہ کو شہید کیا۔اس کو بھی معافی دے دی گئی۔مندرجہ بالا فہرست سے ناظرین دیکھ سکتے ہیں کہ ان میں ایک بھی ایسا نہ تھا جس کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارتداد کے لئے قتل کا حکم دیا۔اس فہرست میں دو مرتد بھی شامل ہیں مگر ارتداد کے جرم کی وجہ سے ان کی نسبت قتل کا حکم نہیں دیا گیا۔بلکہ ان کے دوسرے جرموں کی وجہ سے۔اور یہ سب مفسد لوگ تھے۔بعض ان میں سے قاتل تھے۔بعض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سخت عناد رکھنے والے اور لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہجو آمیز شعروں کے ذریعہ اکسانے والے تھے۔یہ سب لوگ اپنے رویہ سے واجب القتل تھے۔مگر پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمال رحم دلی سے اکثر کو معاف کر دیا۔صرف چار کو قتل کیا جن میں سے دو قاتل تھے۔تیسری ایک مفسدہ عورت تھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہجو کے شعر کہ کولوگوں کو اکساتی تھی۔چوتھا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرنے والا۔لوگوں میں شر پھیلانے والا اور مفسد تھا۔اور اس نے دو دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکیوں کو ہجرت کے وقت اونٹ سے گرانے کا ارتکاب کیا۔ان چاروں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا۔اور مختلف موقعوں پر صحابہ کے ہاتھوں سے قتل کئے گئے۔اگر ان کو بھی معافی مانگنے کا موقع مل جاتا تو ممکن تھا کہ اگر سب کو نہیں تو کم از کم بعض کو ان میں سے اسی طرح معافی مل جاتی جس طرح کہ ان کے باقی ساتھیوں کو مل گئی تھی۔دو آدمیوں کی نسبت لکھا ہے کہ ام ہانی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر عرض کی کہ میں نے ان کو پناہ دی ہے مگر علی ان کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ