قتل مرتد اور اسلام — Page 186
186 جس کو ام ہانی نے پناہ دی میں بھی اس کو پناہ دیتا ہوں۔پس چار ہی بدقسمت تھے جو اس موقع پر قتل کئے گئے اور کسی کو ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا۔پانچواں ثبوت۔اس امر کا پانچواں ثبوت کہ اسلام میں محض ارتداد کیلئے کوئی شرعی حد مقرر نہیں کی گئی ، خود وہ روایات ہیں جن کو قتل مرتد کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے۔ان تمام روایات پر جب یکجائی طور پر نظر کی جاتی ہے تو ان سے بھی یہی امر ثابت ہوتا ہے که محض ارتداد کے لئے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے کسی فرد واحد کو بھی قتل تو الگ رہا کوئی اور سزا بھی نہیں دی۔اب میں ذیل میں ان روایات کو نقل کرتا ہوں۔جن کو قتل مرتد کی حمائت کرنے والے مولوی صاحب نے پیش کیا ہے۔( ا ) عن ابي قلابة عن انس قال قدم اناس من عكل او عرينة فاجتووا المدينة فامرهم النبى صلعم بلقاح وان يشربوا من ابوالها والبانها فانطلقوا فلما صحوا قتلوا راعى النبي صلى الله عليه وسلم واستاقوا النَّعَمَ فجاء الخبر فى اوّل النهار فبعث في آثارهم فلما ارتفع النهار جي بهم فقطع ايديهم وارجلهم وسمرت اعينهم والقوا في الحرّة۔( بخاری۔ترندی۔کتاب الطہارۃ۔مسلم۔ابوداؤد۔نسائی۔کتاب المحاربة - بتقارب الالفاظ ) (۲) حدثنا ابو النعمان محمد بن الفضل حدثنا حماد بن زيد عن ايوب عن عكرمة قال أُتِىَ عَلِيٌّ بزنادقة فاحرقهم فبلغ ذلك ابن عباس فقال لوكنت انا لم احرقهم لنهى رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تعذبوا بعذاب الله» ولقتلتهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم "من بدل دينه فاقتلوه“۔بخاری جلد 4 کتاب استتابة المرتدين)