قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 173 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 173

173 مرتد ہو گیا مگر اس کو قتل کی سزا نہیں دی گئی۔اب کہاں ہیں حامیان قتل مرتد ؟ وہ بتائیں کہ اگر اسلام میں ارتداد کے لئے قتل کی حد مقررتھی تو پھر اس مرتد کو کیوں قتل نہ کیا گیا؟ اس پر کیوں شرعی حد جاری نہ کی گئی ؟ کیا امیر امان اللہ خان کو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی نسبت زیادہ دینی غیرت ہے؟ کیا امیر کا بل آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی نسبت شرعی حدود کا زیادہ نافذ کرنے والا ہے؟ پھر کیا وجہ کہ اس مرتد کو جس نے آپ کے سامنے مدینہ میں ارتداد کیا قتل نہ کیا گیا؟ اس شخص کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بار بار آنا بھی ظاہر کرتا ہے کہ مرتد کے لئے قتل کی سزا مقرر نہ تھی۔اور نہ وہ کبھی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آتا بلکہ کوشش کرتا کہ بلا اطلاع چپکے سے نکل جائے اور کسی پر ظاہر نہ کرتا کہ وہ ارتداد اختیار کرنا چاہتا ہے۔ہمیں بتایا جاتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل، ارتداد کو روکنے کے لئے شریعت اسلام میں مقرر کی گئی ہے اور اس کی غرض و غایت یہ ہے کہ لوگوں کو اسلام پر رہنے کے لئے مجبور کیا جائے۔اگر یہ بات سچ ہے تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے کیوں اس کو متنبہ نہ کیا ؟ اور کیوں یہ نہ کہا کہ یاد رکھو! کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے۔اگر تم ارتداد اختیار کرو گے تو تمہیں قتل کیا جائے گا؟ اور جب کہ وہ بار بار ارتداد کا ارادہ ظاہر کرتا تھا اور خوف تھا کہ وہ مرتد ہو کر چلا جائے گا تو ایسی صورت میں کیوں اس پر پہرہ مقرر نہ کیا گیا تا اگروہ مرتد ہوکر جانے لگے تو اس کو پکڑ لیا جاوے اور اس پر شرعی حد جاری کی جاوے؟ کیوں صحابہ نے اس کو یہ نہ کہا کہ میاں! اگر جان کی خیر چاہتے ہو تو ارتداد کا نام نہ لو کیونکہ اس شہر میں تو یہ قاعدہ جاری ہے کہ جو شخص اسلام لا کر پھر ارتداد اختیار کرتا ہے اس کو فورا قتل کر دیا جاتا ہے؟ پس اس اعرابی کا بار بار ارتداد کا اظہار کرنا اور اس کا آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس بار بار جانا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کو ارتداد کے نتیجہ سے متنبہ نہ کرنا اور نہ صحابہ کا اس کو قتل کا حکم سنانا اور آخر کار اس کا بغیر کسی قسم کے تعرض کے مدینہ سے نکل جانا،