قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 170 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 170

170 پانچواں عذر قرآن شریف کے معیار سے گریز کرنے کے لئے مولوی صاحبان یہ پیش کرتے ہیں کہ جو حدیث محدثین کے اصول کے رو سے صحیح ثابت ہو جائے اس کا معارض قرآن ہونا قطعاً ناممکن ہے۔اس لئے کسی ایسی حدیث کو جو محدثین کی اصطلاح میں صحیح کہلاتی ہے قرآن شریف پر عرض کرنے کی ضرورت نہیں۔میں پوچھتا ہوں کہ اگر یہ درست ہے کہ جس کو محد ثین اپنی اصطلاح میں صحیح حدیث کہتے ہیں وہ قرآن شریف سے کسی صورت میں بھی معارض نہیں ہو سکتی تو پھر آپ قرآن شریف کا معیار قبول کرنے سے ڈرتے کیوں ہیں؟ پھر تو آپ کو خوشی سے اس معیار کو قبول کر لینا چاہئے تھا۔کیونکہ آپ کے اس قول سے تو ثابت ہوتا ہے کہ صحیح حدیث کا قرآن سے موافق ہونا ضروری ہے۔گویا آپ اس اصول کو درست تسلیم کرتے ہیں۔پس جب یہ اصول خود آپ کے نزدیک بھی درست ہے تو پھر آپ کیوں میدان میں نہیں نکلتے اور کیوں اپنی پیش کردہ روایات کو ان معنوں میں جو آپ ان کی طرف منسوب کرتے ہیں قرآن شریف کے ساتھ مطابق کر کے نہیں دکھاتے ؟ نیز حامیان قتل مرتد کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ جس حدیث کا نام محدثین نے اپنے قواعد کے رو سے صحیح رکھا ہے اس کا معارض قرآن ہونا قطعا ناممکن ہے۔جب صحیح کہلانے والی احادیث خود آپس میں متعارض ہیں تو قرآن شریف سے کیوں متعارض نہیں ہو سکتیں۔حامیان قتل مرتد پہلے ان کا باہمی تعارض دور کریں اس کے بعد یہ دعویٰ پیش کریں کہ ان کا معارض قرآن ہونا قطعاً ناممکن ہے۔ان صحیح کہلانے والی احادیث میں خود با ہم اس قدر اختلاف ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی ان کا تعارض دور نہیں کر سکے اور ان کی جمع کی ہوئی احادیث میں جو اصح سمجھی جاتی ہیں اختلاف اور تعارض موجود ہے۔اور ان احادیث میں باہمی سخت تعارض کے ہوتے ہوئے یہ دعویٰ کرنا کہ ان کا معارض قرآن ہونا قطعاً ناممکن ہے ایک بڑ سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔