قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 158 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 158

158 ٹوٹ جائے اور جو پر دہ وہ لوگوں کی آنکھوں پر ڈالنا چاہتے ہیں قرآن شریف اس پر دہ کو اٹھا دے اور حقیقت کا انکشاف ہو جائے۔لیکن معلوم ہونا چاہئیے کہ ان کے عذرات اس مشکل سے ان کو نجات نہیں دے سکتے۔وہ گھبرا کر کہتے ہیں کہ یہ دنیا جہان سے نرالا قاعدہ ہے جو وضع کیا گیا ہے۔مگران کو جانا چاہئے اول تو یہ قاعدہ نرالا نہیں لیکن محض نرالا ہونا کسی قاعدہ کو غلط ثابت نہیں کرتا۔اس قاعدہ کوغور سے دیکھو۔اگر وہ قاعدہ معقول ہے تو اسے قبول کرنا چاہئے۔اور اگر غیر معقول ہے تو اسے رد کر دینا چاہئیے۔صرف یہ کہہ کر کہ یہ ایک نیا معیار ہے جو پیش کیا گیا ہے آپ کسی معیار کور دنہیں کر سکتے۔اس معیار کو پرکھو۔اس کا امتحان کرو۔اگر امتحان کے بعد آپ اس معیار کو مضبوط اور یقینی پاؤ تو اس کو اختیار کر ورنہ اس کو ترک کر دو۔وہ معیار کیا ہے جو اس بحث میں حدیث کے پر کھنے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔اس وقت آپ لوگوں نے قتل مرتد کے دعوے کے ثبوت میں کچھ حدیثیں پیش کی ہیں۔ہم نے اس دعوی کی تردید میں قرآن شریف کو پیش کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ قتل مرتد کا مسئلہ قرآن شریف کی تعلیم کے خلاف ہے اور تمہاری پیش کردہ حدیثوں کے متعلق یہ معیار پیش کیا ہے کہ ہم ان حدیثوں کو قرآن شریف پر عرض کریں گے۔اگر ان کو قرآن شریف کے مطابق پائیں گے تو ان کو کمال خوشی سے قبول کریں گے اور اگر ان کے الفاظ میں اور قرآن شریف میں بظاہر تعارض نظر آئے گا تو ہم قرآن شریف کو چھوڑ کر حدیثوں کے ان معنوں کو صحیح تسلیم نہیں کریں گے جو قرآن شریف کی تعلیم کے صریح مخالف ہیں بلکہ ان احادیث پر غور کریں گے۔اگر ان احادیث کی کسی طرح قرآن شریف کی تعلیم سے تطبیق ہوسکی تو ہم ان معنوں کو صحیح تسلیم کریں گے جو قرآن شریف کی تعلیم کے عین مطابق اور موافق ہیں اور ان معنوں کو ترک کر دیں گے جو قرآن شریف کے مخالف ہیں لیکن اگر ان احادیث کی تطبیق قرآن شریف سے نہ ہو سکی تو ہم مجبوراً ان احادیث کو قرآن شریف کے خلاف ہونے کی وجہ سے ترک کر دیں