قتل مرتد اور اسلام — Page 150
150 قريظة فثبتوا على دينهم فلما جاء الاسلام اراد هلوهم ان يكرهو هم على الاسلام فنزلت لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (در منثور جلد اصفحه ۳۲۹) انصار کے بعض آدمیوں نے بنوفر یضہ میں پرورش پائی تھی اور وہ انہی کے دین پر قائم ہو گئے تھے۔جب اسلام آیا تو ان کے رشتہ داروں نے چاہا کہ ان کو اسلام لانے پر مجبور کریں۔تب یہ آیت اتری لا اکراه فی الدین۔(۴) عن ابن عباس في قوله لا اكراه فى الدين قال نزلت في رجل من الانصار من بنى سالم بن عوف يقال له الحصين۔كان له ابنان نصرانيان وكان هو رجلا مسلمًا۔فقال للنبي صلى الله عليه وسلم الا استكرهُهُما فانّهما قد ابيا الا النصرانية فانزل الله فيه ذلك (در منثور جلد اصفحه ۳۲۹) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ لا اکراہ فی الدین ایک انصاری کے بارہ میں اتری جو بنو سالم بن عوف کے قبیلہ میں سے تھا اور جس کا نام حصین تھا۔اس کے دو بیٹے نصرانی تھے اور وہ خود مسلمان تھا۔اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ کیا میں ان کو جبر سے مسلمان نہ بنالوں؟ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم نصرانی رہیں گے۔تب اس امر کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ان تمام روایتوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ یہ آیت انصار کی اولاد کے بارہ میں اتری۔جو نصرانی یا یہودی ہو گئے تھے اور ان کے مسلمان رشتہ دار چاہتے تھے کہ جبر سے ان کو مسلمان بنالیں اس کی ممانعت میں یہ آیت اتری۔اب میں حامیان قتل مرتد سے پوچھتا ہوں کہ اس شان نزول کے مطابق آیت لا اکراہ فی الدین کے کیا معنے ہونے چاہئیں۔کیا یہ کہ بے شک جبر سے لوگوں کو مسلمان بنالو۔جبر سے اسلام میں لوگوں کو داخل کرنا جبر