قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 141 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 141

141 کریمہ کا مفہوم بھی محل نظر ہے کیونکہ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے ترجمہ میں اس آیت کا ترجمہ یوں بیان فرماتے ہیں:۔نیست جبر کردن برائی دین هر آئینه ظاهر شده است راه یابی از گمراهی۔66 اس کی تشریح وہ حاشیہ میں اس طرح فرماتے ہیں:۔یعنی حجت اسلام ظاهر شد پس گویا جبر کردن نیست اگرچه فی الجمله جبر باشد حامیان قتل مرتد لکھتے ہیں کہ 66 ”اردو میں یہ مطلب اس طرح ادا کیا جا سکتا ہے کہ اسلام کے آتے ہی حق اور باطل کا معیار دنیا کے سامنے آگیا اور انسان کے سامنے سچائی پیش کر دی گئی۔اب اس کے لئے بجز اس کے چارہ نہیں کہ اس سچائی کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور اگر نہ کرے تو اس کی گردن عدوان و طغیان کے جھکانے کے لئے کچھ طریقے ایسے اختیار کرنے پڑیں گے جن پر بظاہر جبر کا گمان ہو گا۔لیکن وہ جبر دراصل جبر نہ ہو گا۔“ حامیان قتل مرتد کی اصل غرض اس حوالہ کے پیش کرنے سے یہ ہے کہ وہ یہ دکھا ئیں کہ اس آیت کریمہ کے معنوں میں اختلاف ہے اس لئے ہم اس سے اپنے حق میں کوئی استدلال نہیں کر سکتے۔کیونکہ جو معنے ہم نے اس آیت کریمہ کے کئے ہیں ان کے بالکل الٹ معنے بھی اسی آیت سے نکالے گئے ہیں اور الٹ معنے کرنے والے حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ جیسی شان کے آدمی ہیں لیکن حامیان قتل مرتد کو معلوم ہونا چاہیے کہ صرف اختلاف دکھانے سے ان کی نجات نہیں ہوسکتی۔ان کا فرض ہے دوراہوں میں سے ایک راہ اختیار کریں۔یا تو وہ دلائل سے اس بات کا ثبوت دیں کہ اس آیت کے وہ معنے غلط ہیں جن سے ہم نے عدم جواز اکراہ فی الدین کا استدلال کیا ہے۔یا وہ اس بات کا اقرار