قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 137 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 137

137 گے اور اپنی عقل خدا داد کے ذریعہ ایک فریق کے حق پر ہونے اور دوسرے فریق کے باطل پر ہونے کے بارے میں اپنی رائے قائم کریں گے اور جہاں آیات و روایات کے معانی میں اختلاف ہو گا وہاں بھی اس بحث کو سننے اور پڑھنے والے غور وفکر کے بعد خود فیصلہ کریں گے کہ کس کے معنے درست ہیں اور کس کے غلط؟ نیز یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ ایک چیز کا سمجھ میں نہ آنا اور بات ہے اور اس کا خلاف عقل ہونا اور چیز ہے۔مسیحی لوگ تثلیث فی التوحید اور کفارہ کو پیش کرتے ہیں۔کیا وہ ان عقائد کی تائید میں مولوی شاکر حسین صاحب کے الفاظ میں معترضین کو یہ جواب دے سکتے ہیں کہ یہ لازمی نہیں ہے کہ جملہ مسائل دینی پر ہمارا فلسفی اور منطقی استدلال منطبق ہو سکے یا ہم ان کی علت دریافت کرنے کا حق رکھتے ہوں اور یہ کہ یہ مسائل اسرار میں سے ہیں انسانی عقل ان کی گنہ تک نہیں پہنچ سکتی۔ہم مسیحیوں کو ان کی اس دلیل کے جواب میں یہ کہیں گے کہ یہ باتیں عقل سے بالا نہیں بلکہ عقل اور فطرت کے خلاف ہیں اس لئے ہم ان کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔اسی طرح ہم حامیان قتل مرتد کے جواب میں یہی کہیں گے کر قتل مرتد کا مسئلہ عقل سے بالا نہیں بلکہ یہ عقل کے خلاف ہے اس لئے ہم اس کو قبول کرنے کیلئے آمادہ نہیں۔اگر اس طریق استدلال کی پیروی کی جاوے تو ہر ایک انسان ایک لغو سے لغو عقیدہ کو اپنے مذہب کی طرف منسوب کر کے یہ حجت پیش کر سکتا ہے کہ یہ دین کے اسرار میں سے ہے اس لئے اس پر جرح کرنے کا کسی کو حق نہیں۔غرض عقل کے متعلق مولوی شاکر حسین صاحب سہسوانی اور ان کے ہم خیال علماء نے جو کچھ لکھا ہے اس سے یہ امر روز روشن کی طرح ہویدا ہوتا ہے کہ یہ صاحب عقلی معیار کے زور سے اس مسئلہ کو صحیح ثابت کرنے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ہاں مولوی شبیر احمد صاحب کا دعوی ہے کہ قتل مرتد عقل سلیم کے رو سے ضروری ہے اور اس کے لئے وہ اپنی کتاب میں ایک خاص عنوان قائم کرتے ہیں جس کے الفاظ یہ ہیں :۔