قتل مرتد اور اسلام — Page 11
11 مولوی شبیر احمد صاحب کی خاطر داری کو ایک حد تک ملحوظ رکھا مگر مولوی شاکر حسین صاحب سہسوانی نے 23 / مارچ کے زمیندار میں صاف لکھ دیا کہ اس امر میں اختلاف کی کوئی وجہ نہیں کہ قرآن پاک میں قتل مرتدین کا کوئی صریح و غیر صریح حکم موجود نہیں ہے۔“ مگر ساتھ ہی مولوی سہسوانی صاحب اور مولوی ظفر علی خاں صاحب فرماتے ہیں که سارا دین محض قرآن میں محدود نہیں۔زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن نے مرتد کی دنیوی سزا کے متعلق سکوت اختیار کیا ہے لیکن قرآن حکیم بعض دیگر احکام مثلاً حدّ شارب وغیرہ کے متعلق بھی اسی طرح ساکت ہے۔لہذا اصولاً کہا جائے گا کہ قرآن کریم اس بارے میں ایسا ہی ساکت ہے جیسا کہ بعض دیگر احکام شرعی ہیں۔اس کے جواب میں ہم اس بات کے مدعی ہیں کہ شریعت کے تمام تفصیلی احکام قرآن شریف میں موجود ہیں اور بے شک یہ درست ہے کہ بعض تفاصیل قرآن شریف میں نہیں پائی جاتیں۔مگر ان تمام تفاصیل کی جڑ اور ان کا اصل قرآن شریف میں موجود ہے۔قرآن شریف ایک کامل کتاب ہے اور جتنے احکام آنحضرت عمﷺ نے اپنی امت کے لئے جاری فرمائے وہ یا تو بالصراحت قرآن شریف میں مذکور ہیں یا ان کا پیج کلام ربانی میں پایا جاتا ہے۔اس لئے ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ اگر بالصراحت قتل مرتد کا حکم قرآن شریف میں نہیں پایا جاتا تو کیا بطور پیج اور تم کے اس حکم کا کوئی نشان قرآن میں ملتا ہے؟ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک تفصیلی حکم قرآن شریف میں نہ پایا جاتا ہو مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت نے کوئی ایسا حکم نافذ فرمایا ہو کہ جو نہ صرف اس کا اصل ہی قرآن شریف میں موجود نہ ہو بلکہ وہ قرآن شریف کی عام تعلیم اور اس کی روح اور سپرٹ کے بھی خلاف ہو۔محتل مرتد کا مسئلہ یعنی یہ مسئلہ کہ اگر کوئی شخص اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار