قتل مرتد اور اسلام — Page 94
94 اور مرہم لگائے لیکن اگر کسی تدبیر سے زخم مندمل نہ ہو سکے۔۔۔۔تو کیا اس وقت سول سرجن کا یہ مشفقانہ فرض نہیں ہو جاتا کہ وہ ٹانگ کے مسموم حصہ کو کاٹ کر پھینک دے۔“ پھر لکھتے ہیں :۔یاد رکھو کہ ارتداد ایک سخت زہریلہ مادہ ہے جو جسم مسلم میں پیدا ہو جاتا ہے۔خدائی سول سرجن جب اس کی تحلیل یا اخراج کی تدبیر سے تھک جاتے ہیں۔تو آخرالیل السیف کے قاعدہ سے اس عضو فاسد کو کاٹ کر پھینک دیتے ہیں۔“ اسی اصول کو دوسرے حامیان قتل مرتد نے بھی تسلیم کیا ہے۔اب مولوی شبیر احمد صاحب کے مندرجہ بالا بیانات سے ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص ارتداد اختیار کرے تو اولا یہ کوشش کرنی چاہئیے کہ وہ اپنی غلطی سے تائب ہو کر پھر اسلام میں داخل ہو جاوے لیکن اگر وہ تائب نہ ہوتو پھر بامر مجبوری اس کو قتل کر دینا چاہیئے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیت پیش کردہ سے مرتد کے متعلق مذکورہ بالا فیصلہ مستنبط ہو سکتا ہے؟ جب ہم اس آیت کو اس تفسیر کے ساتھ پڑھتے ہیں جو مولوی صاحب موصوف نے کی ہے تو ہمیں تعجب آتا ہے کہ مولوی صاحب نے اس آیت کو اپنے عقیدہ کی تائید میں کیوں پیش کیا کیونکہ ان کی تفسیر تو بالکل اس اصل کے مخالف پڑتی ہے جو مولوی صاحب نے پیش کیا۔کیونکہ مرتد کے متعلق مولوی صاحب کا پیش کردہ اصل تو یہ ہے کہ پہلے اسے سمجھاؤ کہ وہ تائب ہو جائے۔اگر تو بہ کرے تو اسے قتل نہ کرو۔اگر تو بہ کرنے سے انکار کرے تو پھر اسے بامر مجبوری قتل کر دو۔لیکن مولوی صاحب کی تفسیر کی رو سے آیت پیش کردہ کا مطلب یہ ہے کہ مرتد کو کہو که وہ تو بہ کرے اور جب وہ تو بہ کر چکے اور اس کی تو بہ بھی سچی تو بہ ہو تو پھر اس کے بعد اس کو قتل کر دو۔اب ناظرین خود انصاف سے بتائیں کہ آیا اس آیت سے مولوی صاحب کے