قتل مرتد اور اسلام — Page 78
78 أفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمُ (ال عمران: 145) اور محمد صرف ایک رسول ہے اس سے پہلے سب رسول فوت ہو چکے ہیں۔پس اگر وہ وفات پا جائے یا قتل کیا جائے تو کیا تم اپنی ایڑیوں کے بل لوٹ جاؤ گے۔اگر محض موت کے لفظ میں دونوں مفہوم موجود تھے اور دونوں کی صراحت کے لئے یہی ایک لفظ کافی تھا تو پھر قتل کا لفظ بلا وجہ کیوں بڑھایا گیا ؟ پھر قتل کے لفظ کی جگہ موت کا لفظ اختیار کرنے کی دوسری حکمت مولوی صاحب یہ بیان فرماتے ہیں کہ تا یہ آیت ان مرتدین کی حالت پر بھی منطبق ہو جائے جو کسی غیر مسلم حکومت کے ماتحت ہونے کے باعث شرعی سزائے قتل سے محفوظ رہتے ہیں۔مثلاً جس طرح آج کل ہندوستان کے حلقہ ارتداد کے مرتدین محفوظ و مصون ہیں۔مولوی صاحب! اس آیت کریمہ کو پھر نظر اٹھا کر دوبارہ پڑھیں اور بتائیں کہ اس میں اول مخاطب کون لوگ ہیں؟ کیا وہ جو اسلامی حکومت میں بودو باش رکھتے تھے یا وہ جو ہندوستان یا چین میں سکونت رکھتے تھے ؟ جب اول مخاطب وہ لوگ تھے جن میں سے ارتداد اختیار کرنے والوں پر بقول مولوی صاحب قتل کی سزا جاری کرنے چاہیے تھی تو پھر کیا وجہ ہے کہ قتل کے حکم کی تو وضاحت نہ کی گئی جس کی وضاحت کی سب سے پہلے ضرورت تھی اور ہندوستان کے حلقہ ارتداد کے مالکانوں کے متعلق وضاحت کر دی گئی کہ ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔یہ تو ایسا مسئلہ تھا کہ اس کی نسبت دیو بند کا ایک ادنیٰ درجہ کا مولوی بھی نہایت آسانی سے اجتہاد اور قیاس کر سکتا تھا۔اصل ضرورت تو عام مرتدین کے متعلق فیصلہ سُنانے کی تھی اس کی تو وضاحت نہ کی گئی اور استثنائی صورتوں پر زور دیا گیا۔مولوی صاحب! آپ ادھر ادھر کیوں ہاتھ پاؤں مارتے ہیں؟ کیوں ایک آیت قرآنی کے صاف مفہوم سے بچاؤ ڈھونڈنے کے لئے اس کو بلاضرورت استثنائی صورتوں پر چسپاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیوں دیانت داری سے صاف طور پر اقرار نہیں کر