قتل مرتد اور اسلام — Page 56
56 اور جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكيل (الانعام: 108) (اے پیغمبر ) تو ان پر نگران نہیں ہے۔اور جب قرآن شریف نے یہ امر بطور قاعدہ کلیہ کے بیان فرما دیا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: 257) کہ دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر جائز نہیں۔تو ایسی کھلی کھلی تعلیم کے بعد اس امر کی کوئی ضرورت باقی نہیں تھی کہ مسلمانوں کو یہ بھی کہا جاتا کہ جو شخص تم میں سے مرتد ہو جائے اسے قتل نہیں کرنا چاہئے۔قرآن شریف کی تعلیم کے ہوتے ہوئے جب مرتد کے قتل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا پھر اس کی تردید ہی کیوں کی جاتی۔ایسے حالات کے ماتحت یہ کہنا کہ خبردار! مرتد کو ہر گز قتل نہ کرنا ایک لغو کام تھا اور قرآن جیسی حکیم کتاب کی شان کے بالکل منافی تھا۔قرآن شریف ایسی لغو کلام کا مرتکب نہیں ہوسکتا تھا۔علاوہ ازیں قرآن شریف کی دو آیات جن میں ارتداد کا ذکر ہے خود صاف طور پر بتا رہی ہیں کہ مرتد کے لئے قتل کا حکم نہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ یہود کی ایک سازش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَقَالَتْ ظَابِفَةً مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ امِنُوْا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ امَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا أُخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (ال عمران: 73) اہل کتاب میں سے ایک گروہ (اپنے لوگوں کو سمجھاتا ہے کہ مسلمانوں پر جو کتاب نازل ہوئی ہے اول روز اس پر ایمان لاؤ اور آخر روز اس سے انکار کر دیا کرو شایداس تدبیر سے ) مسلمان (اس نئے دین سے ) پھر جائیں۔“ اس کے جواب میں حامیان قتل مرتد فرماتے ہیں۔یہ صرف یہود کی ایک تجویز تھی