قتل مرتد اور اسلام — Page 33
33 بیان فرما دی گئی ہے جو یہ ہے کہ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقرة: 257) یعنی جبر کا تو ایک ہی مقام ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جو سمجھ نہ سکے اس پر جبر کیا جاتا ہے جیسا کہ بچہ کی صورت میں کیونکہ اس میں ابھی سمجھنے کی قابلیت پیدا نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہاں وہ صورت نہیں ہے۔یہاں یہ حال ہے کہ قد تبين الرشد من الغى ہدایت گمراہی سے الگ ظاہر ہو چکی ہے۔یعنی اب ہدایت اور گمراہی کی راہیں بالکل واضح اور تین ہو گئی ہیں اور ہر ایک کے لئے جو سمجھنا چاہے ہدایت کا طریق گمراہی سے بالکل الگ ہو گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان تمیز کرنے میں کوئی دقت باقی نہیں رہی اس لئے جبر کی ضرورت بھی باقی نہیں رہی۔پس دین کے معاملہ میں جبر کرنا نا جائز ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ لا اکراہ فی الدین کا حکم جنگی تعلیم کے بعد دیا گیا ہے۔اس سے پہلے قتال کے احکام اور اس کی تعلیم بیان فرمائی گئی ہے۔پس نہ صرف اس آیت کریمہ کا مضمون بلکہ اس کا مقام بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ یہ آیت کریمہ جبر وا کراہ کی ممانعت کے لئے نازل ہوئی ہے۔مذہبی اعتقاد کی بنا پر تکلیف دینا انبیاء کے دشمنوں کا شیوہ ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کے تذکرے اس لئے بیان فرمائے ہیں کہ ہم ان سے عبرت حاصل کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ (يوسف: 112) ان لوگوں کے ذکر میں عظمندوں کے لئے ایک عبرت کا نمونہ موجود ہے۔پس اللہ تعالیٰ اپنی پاک کتاب میں مومنوں کا حال بھی بیان کرتا ہے اور کفار کا بھی ، اور اس بیان سے منشاء یہ ہے کہ ہم مومنوں کے نمونہ پر چلیں اور ان راہوں سے پر ہیز کریں